چابھار ( ھمگام نیوز)ہمگام نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ جمعہ مغربی مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر چابھار میں قابض ایرانی دہشتگرد ریاستی فوسز نے ایک گاڑی کو تعاقب کرنے کی کوشش کی، جس سے گاڑی الٹنے کے باعث 1 بلوچ جانبحق، تفصیلات کے مطابق امیر بامری اور اسکے 14 سالہ بیٹے آرش بامری اپنے نجی گاڑی میں گیس کے چند سلنڈر ڈال کر کہیں فروخت کرنے کے غرض سے لے جا رہے تھے، کہ لاشار پائپ لائن کے قریب ایرانی فورسز نے ان کا تعاقب کیا اور امیر بامری نے ایرانی فورسز سے اپنی جان و مال بچانے کی خاطر گاڑی کو دوسرے رخ پر موڑنے کی کوشش کی اسی دوران ان کی گاڑی الٹ گئی جس کے نتیجے میں امیر بامری کا چودہ سالہ بیٹا آرش بامری جانبحق ہو گیا جبکہ امیر بامری خود شدید زخمی ہو گئے عینی شاہدین کے مطابق آرش بامری اپنے والد کے ہمراہ گاڑی میں تھے جب گاڑی موڑتے وقت بے قابو ہو گیا تھا، تو آرش بامری اسے قابو کرنے کی کوشش کی۔ لیکن گاڑی الٹنے سے وہ جانبحق ہو گئے . ایرانی قابض فورسز گاڑی کو الٹتے ہوئے دیکھ کر انھیں وہی چھوڑ کر خود واپس ہو جاتے ہیں تاہم امیر بامری بے سروسامانی کے عالم میں اپنے بچاؤ کے لیئے خود سے کوشش کی تھی۔جبکہ قریبی لوگوں نے ان کو اپنی مدد آپ کے تحت ابتدائی طبی امداد فراہم کی تھی ـ
یاد رہے کہ اسی خاندان کے چھ افراد ایرانی ظلم کا شکار ہو کر اپنی زندگی کی جنگ ہار چکے ہیں گزشتہ سال اسی خاندان کی ایک گاڑی پر ایرانی قابض فورسز کی فائرنگ سے ایک نو سالہ بچی سمیت چار افراد کو قتل کر دیا گیاتھا۔ اور رواں ماہ میں اسی خاندان کے ایک اور بچے کو قابض ایرانی پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا ـ


