جمعه, مارچ 13, 2026
Homeخبریںچین سمیت چھ ملک نسل کشی اور ایذا رسانی میں ملوث ہیں،...

چین سمیت چھ ملک نسل کشی اور ایذا رسانی میں ملوث ہیں، امریکی محکمہ خارجہ

واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق نسل کشی اور ایذا رسانی کی روک تھام سے متعلق امریکہ نے سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے پیر کے روز یہ رپورٹ جاری کی جس میں چھ ممالک میں نسل کشی اور ایذا رسانی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں میانمار جسے برما بھی کہا جاتا ہے، چین، ایتھیوپیا، عراق، شام اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔

رپورٹ میں ان مالی، سفارتی اور دیگر اقدامات کا بھی ذکر ہے جو امریکی حکومت نسل کشی اور ایذا رسانی کو روکنے کے لئے کر رہی ہے۔ رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا، “اس سال پہلی مرتبہ اس رپورٹ میں مخصوص ممالک میں جن میں برما، ایتھیوپیا، چین اور شام شامل ہیں، ایذا رسانی کی تفصیلات براہِ راست بیان کی گئی ہیں۔ ان ممالک سے ہمارے ایجنڈے کو خارجہ پالیسی کے بعض سخت ترین چیلنجز درپیش ہیں۔”

وزیرِ خارجہ بلنکن نے مزید کہا، “ہم ایک مربوط داخلی دباؤ اور ردِ عمل کے لئے وہ تمام ذرائع استعمال کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور جن میں سفارتکاری، بیرونی امداد، حقائق معلوم کرنے کے مشن، مالیاتی ذرائع اور اس نوعیت کی رپورٹیں شامل ہیں جیسی کہ یہ ہے۔”

جنوری میں بلنکن نے اس بات کی توثیق کی تھی کہ چین سنکیانگ کے علاقے میں ویغور لوگوں کے خلاف نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ تسلسل سے ان چینی عہدیداروں پر ویزے کی پابندیاں لگا رہا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مسلم اقلیتوں کو حراست میں لینے یا ان سے ناروا سلوک کے ذمے دار ہیں۔

امریکہ، یوروپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین کے دو عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں اور اسی بنیاد پر درجنوں چینی کمپنیاں سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر نے والوں کی امریکی فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔

بعض ماہرین کے نزدیک بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی کو روکنا نہ صرف ایک اخلاقی ذمے داری ہے بلکہ ایک فرض بھی ہے۔

‘جینوسائیڈ واچ’ کے بانی صدر گریگری سٹینٹن نے کہا کہ نسل کشی امریکی وفاقی عدالتوں کے تحت عالمی عملداری کے جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ خواہ یہ نسل کشی دنیا میں کہیں بھی ہوئی ہو، امریکی وفاقی عدالتوں میں اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مجرموں کا امریکہ میں موجود ہونا ضروری ہے، کیونکہ امریکہ میں کسی کے خلاف اس کی عدم موجودگی میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز