کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ رواں سال کی آغاز سے ڈیرہ بگٹی، سبی، پنجگور، نصیرآباد سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شروع ہونے والے آپریشن میں روز بہ روز تیزی لائی جارہی ہے۔ بروز جمعہ ڈیرہ بگٹی میں جاری آپریشن کے دوران لوپ کے مقام پر دو گمشدہ بلوچ فرزندان کی گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جنھیں انسانیت سوز تشدد کے بعد شہید کرکے انکی چہروں کو تیزاب سے مسخ کردیا گیا تاکہ ان کی شناخت ممکن نہ ہو۔ اسی طرح ڈیرہ بگٹی کے علاقے سخین سے ایک عمر رسیدہ شخص پیلا بگٹی کو دوران آپریشن فورسز نے گولیوں سے چھلنی کردیا۔ دوسری جانب سوئی کے علاقے پٹ فیڈر میں ریاستی فورسز نے عرض محمد بگٹی کے گاوں پر حملہ آ ور ہوکر گھروں میں گھس کر سرچ آپریشن کیا۔ چادر و چار دیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ آپریشن کے دوران چار بے گناہ بلوچ فرزندوں کو اغواہ کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا جن کی شناخت تلہو ولد جونگ علی بگٹی، نظر محمد ولد مشکول بگٹی، شکاری ولد گل محمد بگٹی اور بدا ولد نظر علی بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اغواہ ہونے والے بلوچ فرزندان کے زندگی کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں کیونکہ فورسز انہیں اغواہ کرنے کے بعد ان کو اذیت گاہوں میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور بعد میں انکی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ شیرمحمد بگٹی نے کہا کہ 23 فروری کو پارٹی کے رہنما شہید عبدالرحمان عارف بلوچ کی پانچویں برسی کی مناسبت سے کارکنان کو ریفرنسز کا انعقاد کرکے شہید کو خراج تحسین پیش کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہید عبدالرحمان عارف ایک عظیم بلوچ فرزند اور باشعور سیاسی رہنما تھے۔ انکی جدوجہد اور بلوچ قومی تحریک میں عظیم قربانی کو بلوچ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد کیا جائیگا۔


