کابل( ہمگام نیوز)افغان و بلوچوں کے درمیان بردرانہ تعلقات ہمیشہ سے رہے ہیں جن پر دونوں برادر اقوام بجا فخر کرتے ہیں مگر ان میں اب نئے خوشگوار تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہورہے ہیں ۔بلوچستان کے جبری قبضہ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یوم آزادی بلوچستان کابل میں منایا گیاہو یاد رہے کہ کابل کی نئی حکومت کے پاکستان کیساتھ کئی معاہدے ہیں اُن کے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کے باوجود کوئی بھی معاہدہ غیر موثر نہیں ہوا ہے۔
ایسے ناہموار سیاسی حالات کے باوجودشوریٰ ہماہنگی واجتماعِ بلوچ افغانستان نے اپنی کوششوں سے اس بات کو ممکن بنایا کہ کابل میں پہلی بار۱۱،اگست کو یوم آزادی بلوچستان باوقار انداز میں منایا جائے ۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قران مجید سے کیا گیا بعد میں ممتاز بلوچ دانشور واجہ عبدالستار پردلی نے بلوچستان کی تاریخ اور خاص کر بلوچستان کی آزادی اور بعد میں جبری قبضے پر تفصیلی روشنی ڈالا آپ نے کہا کہ بلوچستان کی حیثیت باقی ہندوستان سے الگ تھی اُس کے تعلقات برطانیہ سے براہ راست تھے مگر اس کے باوجود نہ اُس نے بلوچوں کے خلاف سازشوں میں کمی کی جن کے نتیجے میں بلوچوں کے سیاسی مرکز کو توڑ کر اُنھیں ٹکڑوں میں تین مختلف ملکوں میں تقسیم کرنے کے علاوہ برٹش بلوچستان ،ریاستی بلوچستان غیرہ میں تقسیم کیا گیادوسری طرف بلوچ قوم نے بھی اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کو ایک لمحہ کیلئے بھی ترک نہیں کیا ۔بلوچ دانشور نے کہا کہ آج کی جدوجہد دراصل اُس جدوجہد کا تسلسل ہے جوخان قلات میرمعراب خان نے 13نومبر 1839کوجام شہادت نوش کر کے شروع کیا تھا۔آپ نے کہا کہ 11 اگست 1947کوبلوچستان کی آزادی کا اعلان کیا گیا جسے پاکستان سمیت ہمسایہ ملکوں نے تسلیم کیا لیکن آزادی کے فوراً بعد پاکستانی حاکموں کی نیت میں فتورآیا اور اُنھوں بلوچستان کی آزادی پر شب خون مارنے کی تیاریاں شروع کیں۔پہلے بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی تجویز دی گئی جسے خان قلات نے اپنے اسمبلیوں ایوان بالا و ایوان زیرین میں رائے شماری کیلئے پیش کیاجس کو اجتماعی طور پر رد کیا گیا اور اس بات کااعادہ کیا گیا کہ بلوچستان اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھے گا ۔جب بلوچ بہ رضا و رغبت پاکستان میں شامل نہیں ہوئے تو بزور شمشیر 27 مارچ 1948کو بلوچستان پر بزور قبضہ کیا گیااُس کے بعد سے اب تک پانچ بار بلوچستان پر اپنی آزادی مانگنے کی پاداش میں فوجی آپریشن کیا جاچکاہے ۔آج بلوچستان اور دنیا کے ہرحصے میں جہاں کہیں بلوچ آباد ہیں کسی نہ کسی طریقے سے اپنی سرزمین اور اُسکی آزادی کی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں افغانستان میں ایسا باوقار پروگرام کا انعقاد بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچستان کی آزادی ہر بلوچ کے دل کی آواز بن چکی ہے جسے نہ ایرانی پھانسیاں ختم کرسکتی ہیں اور نہ پاکستان کی مارواور پھینکو کی پالیسیاں ۔ستارپُردلی نے کہا کہ افغانستان بلوچوں کی آزادی کی تحریک میں وہ کردار ادا کرے جو ایک دوست دوسرے دوست سے ایسے موقعوں پر توقع رکھتا ہے بلکہ میں یہاں تک کہوں گا آزاد بلوچستان افغانستان اور اس پورے ریجن میں امن کا ضامن ثابت ہوسکتا ہے ۔
اجتماع سے پشتون دانشور اور کابل نیوز ٹی وی چینل کے اینکر پرسن غلام جیلانی زواک نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ہمارے بلوچ بھائیوں نے درست سمت اور منزل کاتعین کیا اگر وہ اس راہ میں جان سے جاتے یا عقوبت خانوں میں ڈالے جاتے ہیں تو جانتے ہیں کہ وہ کس عظیم مقصد کیلئے لڑرہے ہیں جس کی وجہ سے اُنھیں یہ سزا مل رہی ہے لیکن ہم پشتون سرحد کے دونوں طرف پنجابی کے مفادات کیلئے بلیدان چڑھائے جارہے ہیں۔اُنھوں کہا کہ ہمیں اپنے بلوچ بھائیوں کے جد وجہد آزادی کو اپنا تحریک آزادی سمجھ کر ہر ممکن مدد کرنی چائیے۔لیکن بد قسمتی سے موجودہ افغان حکومت کی پالیسی تاحال پاکستان نوازی پر استوار افغان عوام کے امنگوں کے برخلاف ہے لیکن مجھے اُمید ہے کہ نئی افغان سرکار پر یہ بات بہت جلدواضع ہوگی کہ پاکستان ہی اُس کے تمام بدبختیوں کے پیچھے ہے اور بلوچ وہ قوت ہے جو اُس کے ازلی دشمن سے برسرپیکار ہے۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یوم آزادی بلوچستان منانا باعث مسرت ہے مگر ہمیں اپنے بلوچ بھائیوں کیلئے اس سے کئی زیادہ مواقع و امکانات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔اُنھوں اس بات پرتاسف کا اظہارکیا کہ افغان حکومت نے آئی ایس آئی کے ساتھ ایک دوسرے کے دشمنوں کو تحویل میں دینے کے معاہدات پردستخط کئے ہیں اُنھوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے پاکستان صرف اور صرف بلوچ آزادی پسندوں کو اپنا دشمن تصور کرتی ہے کیا افغان حکومت ایسی شرمناک حرکت کرسکتی ہے جس کی اجازت بلوچوں و افغانوں کی روایات اور تاریخی دوستی نہیں دیتی۔ اُنھوں نے کہا کہ گوکہ سرکار سخت عوامی ردعمل کے خوف سے مذکورہ معاہدہ کو لغو تصور کرنے کا کہتی ہے مگر یہ بات اُس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کے لغو ہونے کے دستاویز منظر عام پر نہیں لائے جاتے ۔ اُنھوں نے کہا کہ میں اس ٹریبون کے زریعے یہ بات اپنے حاکموں کیلئے واضع کرنا چاہتا ہوں کہ افغان عوام بلوچوں کے خلاف کسی بھی سازش کو انتہائی نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی ہے اور اُسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔
تقریب میں بلوچ آزادی پسند رہنما حیر بیار مری کا پیغام بلوچ قلمکار و دانشورحفیظ حسن آبادی نے پڑھ کر سنایاجسمیں اس امر پر مسرت کا اظہار کیاگیاتھا کہ افغانستان میں پہلی بار یوم آزادی بلوچستان منایا جارہا ہے جس سے نہ صر ف ہربزرگ وجوان بلوچ کو یہ جانکاری ملے گی کہ وہ ایک بار آزاد ہوچکے ہیں اور موجودہ دؤر غلامی دائمی نہیں ۔جس طرح اس سے قبل انگریز اپنے تمام تر نیرنگیوں کے باوجود بے نیل و مرام بلوچ سرزمین سے نکلنے پر مجبور ہوئے پنجابی اور ایرانی بھی اسی بلوچ وطن سے نکلنے پر مجبور ہوں گے مگر اُس کیلئے ایک شرط ہے کہ بلوچ اپنی تحریک آزادی کو جاری وساری رکھے ۔ پیغام میں اس بات کی ضرورت پر زور دیاگیا تھا کہ بلوچ اس حقیقت سے باخبر رہیں کہ اُنکی سرزمین قدرتی دولت سے مالا مال ہے جس کو لوٹ کر پاکستانی اور گجراپنی آئندہ کی نسلوں کی زندگی سنوارکر بلوچ کو اس کی سرزمین پر گوادر پروجیکٹ جیسے منصوبوں کے زریعے ریڈانڈینز کی طرح اقلیت میں تبدیل کرکے اُس کانام و نشان مٹانا چاہتے ہیں۔مری کے پیغام میں کہاگیا تھا کہ بظاہر بلوچ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے لیکن غور سے دیکھنے میں وہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کا ہراول دستہ ہے جو اُس قوت کے خلاف لڑرہی ہے جس نے پوری دنیا کے امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے۔اس وقت بلوچ جنگ آزادی کی بدولت بلوچستان میں بلوچ نشین علاقوں کو پاکستان اپنے مذہبی جنونیوں کیلئے اُس آزادی کے ساتھ استعمال نہیں کرپارہا جس طرح وہ بلوچستان کے پشتون نشین علاقوں کو اُن کے رحم و کرم پر چھوڑے ہوئے ہے۔
بلوچ راہنماکے بیان میں خاص طور پر نصیر خان نوری اور آحمد شاہ ابدالی کے درمیان معاہدے کا ذکر کیا گیا تھا جسکے مطابق دونوں قوموں اور مملکتوں کے دوست ودشمن مشترک تصور کئے جائیں گے ۔آج اگر بلوچستان آزاد ہوگا تو یہ بات یقینی ہے ہم اُس تاریخی دوستی کے تحت اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی افغانستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے جس طرح آج پاکستان بلوچوں کے مرضی کے برخلاف اُسے استعمال کررہا ہے۔یہ بات بھی یقینی ہے کہ آزاد بلوچستان نہ صرف افغانوں کے دشمنوں کی پناہ گاہ نہیں بن سکے گا بلکہ ہمارے بھائی افغان ہم سے منسلک سرحد سے مطمئین رہیں بلکہ گودار سمیت بلوچستان کے دیگر بندگاہیں اُنھیں اپنے تجارت کیلئے میسر رہیں گے۔بلوچ راہنما نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچ اپنی آزادی حاصل کرنے کے کوششوں کی پاداش میں نسل کُشی سے دوچار ہے اس وقت اس کے بیس ہزار سے زائد پیر و جوان غائب اور پانچ ہزار سے زائد کی مسخ شدہ لاشیں دشت وبیابانوں پھینکی جاچکی ہیں مگر ہمسایہ ممالک اور عالمی بڑی قوتیں چھپ سادھ لئے ہوئے ہیں آپ نے افغانستان ،ہندوستان ،امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے خصوصی طور پر اپیل کی وہ بلوچ قوم کی 11,اگست 1947والی پوزیش کی بحالی میں اپنا کردار کریں ۔رکن افغان پارلیمنٹ محترمہ فریدہ حمیدی بلوچ نے خطاب کرتے کہا کہ بلوچ قوم ہر جگہ ظلم و ذیادتیوں کا شکار ہے اس کیلئے لازم ہے بلوچ جہاں کہیں بھی ہے متحد ہو جائے تاکہ خود کو مشکلات سے نجات دلا کر اپنی تاریخی حیثیت بحال کرسکے۔پشتون صحافی ونامور سماجی و سیاسی کارکن نواب مومند نے کہا کہ وہ بلوچوں کی جد وجہد آزادی کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اُنھیں اس بات سے شدید تکلیف ہوتی ہے کہ پاکستان اپنے اس سازش میں کامیاب ہوگئی ہے کہ پشتون ایف سی کی شکل میں بلوچوں کے آزادی کی تحریک کے سامنے رکاوٹ بن چکی ہے ۔اُنھوں نے پشتون لیڈرمحمودخان اچکزئی اور اسفند یار ولی کی پاکستان نواز پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اُن سے اس اُمید کا اظہارکیا کہ وہ بلوچوں کی جنگ آزادی میں پاکستان کی طرف سے پشتون ایف سی کے استعمال کے سامنے دیوار کھڑی کریں اور بلوچ بھائیوں کے آزادی بارے اپنے موقف کو واضع کریں ۔تقریب سے گل محمد بلوچ نے ’’ سرمچار‘‘ کے عنوان سے پشتوکا ایک خوبصورت شعر پیش کیا اور آخر میں جرنل مہرعلی بلوچ نے بلوچستان کی تاریخ پرتفصیلی روشنی ڈالا ۔
یادرہے کہ یہاں کابل افغانستان میں یوم آزادی بلوچستان اپنی نوعیت کاایسا پہلا پروگرام تھا بلکہ اِسے میڈیا نے جس انداز سے کوریج دیا اسکی نظیرماضی میں کم ملتی ہے ۔پروگرام تلاوت کلام پاک کی تلاوت اور بلوچستان کی آزادی کیلئے خصوصی دعاؤں سے اختتام پذیر ہوا


