سنندج ( ہمگام نیوز ) اطلاعات کے مطابق کرد خاتون مہسا امینی کی ایرانی پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد کردستان میں مظاہروں کا سلسلہ جاری، ایرانی فورسز کی مظاہرین پر وحشیانہ تشدد، 8 مظاہرین جانبحق 450 سے زائد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز قابض ایرانی پولیس کے ہاتھوں حجاب کے مسئلے پر گرفتاری کے بعد کرد خاتون مہسا امینی پر شدید تشدد کے بعد ہسپتال میں کوما کی حالت میں جانبحق ہونے کے بعد مقبوضہ کردستان سمیت ایران کے کئی علاقوں میں گذشتہ کئی روز جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی طرف سے مظاہرین پر تشدد اور براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں تقریبا 8 مظاہرین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اس مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام کو بے جاہ تشدد کے دوران 450 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں لیکن تاحال اس احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں ملا ملٹری کی حکومت آنے کے بعد ایران میں خواتین کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہے جس کی تازہ مثال مہسا امینی کی ایرانی پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل ہے ۔


