کوئٹہ( ہمگام نیوز ) ہمگام نیوز نماہندہ کوئٹہ کے مطابق آج بروز عید BHRO اور VBMP کی جانب سے جبری طور پر اغواء بلوچوں کی بازیابی کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں جبری طور پر اغواء بلوچوں کے لواحقین نے شرکت کر کے مطالبہ کیا کہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جائے. امتیاز لہڑی بلوچ کے والدہ محترمہ نے اپنے لخت جگر کے سلائے گئے کپڑے اور جوتے میڈیا کو دکھائے اور کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے وہ اپنے بیٹے کیلئے کپڑے اور جوتے کا انتظام کرتی ہیں اس امید سے کہ ان کا بیٹا آج یا کل گھر واپس آ جائے گا مگر آج تک ہمیں اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ بھی بتایا نہیں جاتا جس کی وجہ سے ہمارے عید قیامت کا منظر پیش کرتے ہیں. اسی طرح مظاہرین نے اپنے پیاروں کی تصویری اٹھائی رکھی تھی اور پاکستانی غیر قانونی حراست میں موجود بلوچ اسیران کیلئے نعرہ بازی بھی کی. مظاہرین نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسی جہنم میں ہم گزشتہ ستر سالوں سے ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں عالمی دنیا تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے جس پر ہمیں شدید تشویش ہے کیونکہ بلوچستان میں ہر روز بلوچ نوجوانوں کو پاکستانی فورسز جبری طور پر اغواء کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر تی ہے.
وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے ایک ٹویٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی پولیس لواحقین کو احتجاجی مظاہرہ کرنے سے روک رہے ہیں ایک ویڈیو کلپ میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستانی پولیس احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے سامنے رکاوٹ پیش کر رہے ہیں.


