کوئٹہ (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لوحقین کا ریڈ زون گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کو49 دن مکمل ہوگے ۔
رواں سال زیارت واقع کے بعد مقبوضہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے ریڈ زون پر دھرنہ دیا جو کہ تال جاری ہے ۔ وضع رہے کہ زیارت میں 8 بلوچ لاپتہ افراد کو ریاستی اہلکاروں نے فیک انکاؤنٹر میں شہید کردیا تھا ۔
اس حوالے سے لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 48 دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجاً دھرنہ دئے ہوئے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کیا جائے مگر اب تک حکومت کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے ۔
سعید حمید ولد لاپتہ عبدالحمید نے لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا ریاست سے صرف یہ مطالبہ ہے میرے والد کو بے شک پانسی دیں مگر کم از کم ان کو بازیاب کرکے ہمیں اس ازیت سے نکال دیں ۔
سمی دین ولد لاپتہ ڈاکٹر دین محمد نے سماجی رابطے کی ویبسائیٹ ٹیوٹر پر بْیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ریڈ زون پر بیٹھے ایک مہینے سے زیادہ وقت ہے کہ ہم یہاں گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کررہے ہیں ۔مگر ہمارے پیاروں کی بازیابی کا اب تک کوئی خبر نہیں ۔اور مزید کہا کہ شال میں بگڑھتی ہوئی موسمی صورتحال کا سامنہ کرتے ہوئے ہمارے کہی ساتھی شدید بیمار ہوگئے ہیں ۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ یہاں ریڈ زون پر بیٹھنے کے علاؤ کہی مرتبہ ہم نے احتجاجا GPO چوک اور سرینہ روڈ بلاک کیا ہے مگر پھر بھی حکومت کی طرف کوئی بااختیار بندہ نہیں ایا جو ہمیں یہ یقین دہانی کرواتا کہ اپ کے پیاروں کو بازیاب کیا جائے گا ۔
واضع رہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج پر بیٹھنے کے باوجود بھی کزشتہ مہینے کی 26 تاریخ کو کراچی اردو بازار سے لالا فہیم کو ریاستی اہلکاروں نے لاپتہ کردیا تھا اور کل بھی باپ کو انکے دو بیٹوں سمیت لاپتہ کردیا گیا تھا ۔


