کوئٹہ( ہمگام نیوز ) بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراداور شہداء کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4916 دن ہوگئے ہیں۔
قلات سے سیاسی سماجی کارکنان محمد رمضان بلوچ، درمحمد بلوچ اور دیگر لوگوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔
اس موقع پروی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی جبر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، مقبوضہ قوم کے لیے آرام آسودگی صرف انکے فرزندوں کی محفوظ آج اور ایک روشن مستقبل سے وابستہ ہے، جو امید کی سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی آتی ہے مگر باہمت بلوچ مائیں بہنیں آج اپنے فرزندو کی شہادتوں جبری اغوا پر ذرہ بھی نالاں نہیں۔ وہ چاہے رمضان کا مہینہ یا عید ہو سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آئنگی اور لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود دنیا کو ریاست پاکستان کی ظلم و جبر سے آگاہ کرنے میں بھی پیش پیش ہیں یا اپنی فرزندو کی لاشوں کو قبرستان سلامی پیش کر رہی ہے اور اسی جذبہ شعور نے بلوچ قوم میں قربانی دینے کے عمل کر تقویت پہنچائی ہے اور یہی ہمت آج ریاست کے لئے تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ 2001 سے جاری پرامن جدوجہد میں بلوچ قوم کے لیے ہر مہینہ ہر دن ہر پل ایک جیسا لہو لہان خون آلود اور مسخ رہا ہے۔ کئی فرزندو کی شہادتوں جبری اغوا کی ساتھ آسمان زمین کو سرخی میں نہلایا گیا۔ آپریشن، فرزندو کی اغوا، مسخ شدہ لاشیں اب ایسا لگتا ہے کہ ہر خوشی ایسے ہی رہے گی۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پہلے سال کے آخری مہینوں میں مچھ بولان ہرنائی شہرگ سے 20 سے زائد بلوچ فرزندو کو شہید کر کے فرضی چھڑوں کا نام دیا جبکہ شہید کئے جانے والے تمام افراد لاپتہ بلوچ فرزندو کی لسٹ میں شامل تھے۔
؎ ماما قدیر نے کہا کہ پاکستانی پارلیمنٹ سماجی تبدیلیاں نہیں بلکہ بلوچ کا جھگڑا صرف اور صرف غلامی ہے اور اس سے چھٹکارہ کے لیے آج بلوچ انہی عالمی اداروں کی قوانین کے مطابق پرامن جدوجہد کررہی ہے جبکہ پاکستان نے دنیا کے تمام قوانین کو پاوں کی نوک پر رکھ کر بلوچ فرزندو لے قتل عام جبری اغوا سول آبادیوں پر بمباری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا جیسا کہ حسب معمول جبری لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو سردیوں میں کراچی منتقل کیا جاتا ہے تو ہم کل سے وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ کو کراچی پریس کلب کے سامنے منتقل کر رہے ہیں


