کوئٹہ: (ہمگام نیوز) پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے گزشتہ 4 روز کے دوران 9 بلوچ فرزند قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اغواء۔
اغواء ہونے والے نوجوانوں کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بتایا جاتا ہے، جن میں کیچ کے علاقے تمپ کے رہائشی فدا ولد محمد علی، پنجگور سے حسام ولد فضل کریم، کیچ بلیدہ سے حیات، عابد، جہانزیب، اکرم ولد بائیان، سدیر ولد یار محمد گوادر سے عبید یوسف اور شعیب یوسف شامل ہیں۔
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر اغواء ہونے والے نوجوانوں کو اغواء کرنے کے بعد ٹارچر سیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے، واضح رہے پاکستانی ریاست کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون میں شہریوں کے حقوق درج ہیں۔جس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کسی فرد پر جرم ثابت نہ ہونے تک اسے قید رکھنا اور اس پر تشدد کرنا آئین کے آرٹیکل 10 اے کے منافی ہے کیونکہ آئین کے مطابق ریاست کے ہر فرد کو اپنی زندگی آزادی سے گزارنے کا حق حاصل ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق کسی بھی ملزم کو گرفتاری کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر کسی عدالت میں پیش کرکے اس پر فرد جرم عائد کرنا بھی لازم ہے۔


