چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںآئی ایم ایف کے قرضوں کی باعث بجلی فی یونٹ1روپیہ80پیسے اضافہ

آئی ایم ایف کے قرضوں کی باعث بجلی فی یونٹ1روپیہ80پیسے اضافہ

اسلام آباد (ہمگام نیوز ڈیسک)پاکستان کی بھاری قرضوں تلے دبی ہوئی معیشت میں موجودہ حکومت نے ریاستی معیشت کو عارضی سنبھالا دینے کیلئے IMF سے مزاکرات کیئے تھے جس میں انھیں بہت سے سخت شرائط پیش کیئے گئے تھے۔جن کے عملی اثرات آہستہ، آہستہ نمودار ہونا شروع ہوئے ہیں۔ جس میں دوسرے شعبوں کے ساتھ بجلی کی ترسیلی کمپنی نیپرا نے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرا دیا،نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے فی یونٹ قیمت میں اضافے کی سفارش کی تھی۔، نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں 1.93روپے اضافے کی سفارش کی تھی۔
جس کے بعد بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 80پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جنوری کی فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں کیا گیا۔جب کہ بجلی کین قیمتوں میں اضافے سے صارفین پر 13ارب 50کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا۔جب کہ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاور پلانٹس سے مہنگی بجلی پیدا کی گئی، اسی باعث نیپرا کو بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ کرنے کی سفارش کر گئی۔

2 ماہ کے بعد شمالی علاقہ جات میں ہونے والی مسلسل برفباری کے باعث دریاوں میں پانی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی باعث ڈیموں سے بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی اور متبادل کے طور پر کمپنیوں کو فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کرنا پڑی۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران بجلی کی قیمتوں میں کئی روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔حکومت کو بجلی کی قیمتیں بڑھانےمیں شدید عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگست میں بھی نیپرا نے ڈسکوز کو صارفین کے بجلی کے نرخ 36 پیسہ فی یونٹ بڑھانے کی منظوری دی تھی۔ ستمبر میں نیپرا نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ تقریباً 2 روپے بڑھانے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ڈسکوز نے صارفین سے اضافی 200 ارب وصول کیے تھے۔اکتوبر میں نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں 20پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی جس سے بجلی صارفین پر 50کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا ۔ستمبر میں فیول لاگت 5روپے 12پیسے فی یونٹ تھی۔تقسیم کار کمپنیوں کو دی جانے والی بجلی کی قیمت 5روپے 56 پیسے فی یونٹ تھی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز