ویانا(ہمگام نیوز ڈیسک ) آسٹریا کے نائب چانسلر ہائنز کرسٹیان اسٹریش متنازع ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یورپی یونین کے انتخابات سے چند روز قبل مستعفی ہوگئے۔ایک رپورٹ کے مطابق ہائنز کرسٹیان نے ٹی وی پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ‘میں نے آسٹریا کے چانسلر سیباستیان کرس کو اپنا استعفیٰ ارسال کیا تھا جسے منظور کرلیا گیا’۔دو روز قبل میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ہائنز کرسٹیان نے آسٹریا میں 2017 کے پارلیمانی انتخابات سے چند ماہ قبل جعلی روسی حمایتی سے ملاقات میں اپنی انتخابی مہم میں تعاون کے عوض کاروباری معاہدوں کا وعدہ کیا تھا۔جرمن میگزین ڈیر شپیگل اور اخبار زیتوشے زائتونگ نے لگژری ولا میں ہونے والی ملاقات کی خفیہ کیمرا ریکارڈنگز جاری کی تھیں۔خفیہ ریکارڈنگز میں خاتون کو کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ ملک میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار کرون ذی تونگ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں جس پر ہائنز کرسٹیان نے تجاویز دیں نئے مالکان دی کرون میں عملے میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں اور اخبار کو ان کی جماعت فریڈم پارٹی کی الیکشن مہم میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔فوٹیج شائع کرنے والے دونوں اخبارات کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں کہ یہ خفیہ آپریشن کس نے کیا تھا۔ویڈیو میں ہائنز کرسٹیان کو آسٹریا کے سرکاری نشریاتی ادارے او آر ایف کے کچھ شعبوں کی نجکاری کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا کہ وہ آسٹریا کے میڈیا کو پڑوسی ملک ہنگری جیسا بنانا چاہتے ہیں۔


