سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںآواران میں خواتین اوربچوں کو حراست میں لے کر لاپتہ رکھنا واضح...

آواران میں خواتین اوربچوں کو حراست میں لے کر لاپتہ رکھنا واضح جنگی جرم ہے:BNM 

کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ آواران پیراندر میں خواتین،معصوم بچوں سمیت لوگوں کو حراست میں لے کر زندان کی زینت بنانا واضح جنگی جرم ہے۔ تمام باضمیر اور انسان دوست لوگ اس بربریت کے خلاف ہمارے ساتھ مل کر اس حیوانیت،درندگی اور سفاکیت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ پاکستان کے سنگین جنگی جرائم صرف ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ پوری انسانیت پاکستانی درندگی سے کسی نہ کسی صورت میں متاثر ہو رہا ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کل آواران کے علاقے پیراندر سے پاکستان نے درندگی وحیوانیت کی نئی انتہا کرکے عبدالحئی بلوچ اور اس کے پورے خاندان اور رشتہ داروں کو اغوا کرکے فوجی کیمپ منتقل کیا ہے۔ کل پاکستانی فوج کے ہاتھوں دوران آپریشن لاپتہ ہونے والوں میں عبدالحئی، ان کی بیٹی شاہناز، ایک سالہ نواسہ فرہاد جان، صنم بنت الٰہی بخش، اس کے دو بچے پانچ سالہ ملین اور دس دن کا مہدیم اور نازل بنت میر درمان، نازل کے دو بچے دس سالہ اعجاز اور سات سالہ بیٹی دردانہ شامل ہیں۔ فوج نے بربریت کی انتہا کرکے ان بلوچ بزرگ،خواتین اوربچوں کو ٹرکوں میں بھر کر آواران کے مرکزی فوجی کیمپ منتقل کیا جنہیں لاپتہ رکھا گیا ہے،ان کی کوئی خیر خبر تک نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر نئی کٹھ پتلی سرکار کے ساتھ بلوچستان میں پاکستانی مظالم میں مزید اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ قو م کے خلاف جنگی جرائم محض ایک سرکار یا ادارے کا کام نہیں بلکہ ریاست پاکستان اور اس کے تمام ریاستی پرزے بلوچ قوم کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی میں شریک جرم اور برسرپیکارہیں۔ اس میں سب سے بڑی اور بھیانک کردار پاکستانی فوج اورخفیہ ادار ے ادا کررہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جس نہج کے جرائم کاارتکاب کیاہے اس کی مثال ہمیں جدید تو کیا قدیم تاریخ میں بھی نہیں ملتی ہے۔ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے پورے خاندان کو اٹھاکر فوجی ٹارچر سیلوں میں قید رکھاجا رہا ہے جن کے لئے اصطلاح ’’لاپتہ یا گمشدگی‘‘ استعمال کیاجاتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئی شخص لاپتہ نہیں بلکہ ہربلوچ اور ہرذی شعور انسان کو معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ پاکستان بلوچ قوم کو اجتماعی سز ا کا نشانہ بنارہاہے جس کا واضح مقصد بلوچ قوم کو اپنی جدو جہد سے دستبردار کرانا ہے۔ آواران پیراندرمیں بربریت اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں ایک واضح انسانی بحران جنم لے چکاہیں۔ پاکستانی ریاست عالمی قوانین اور انسانی اقدار کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق پاکستان کے لئے ایک ایسی لفظ بن کر رہ گیاہے جس کا کوئی معنی ہی نہیں۔ ہم عالمی میڈیا،سول سوسائٹی،انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کے انسانیت سوز جرائم اور حیوانیت کے خلاف راست اقدام اٹھائیں تاکہ ظلم،بربریت اور درندگی کے شکار بلوچ قوم کے زخموں پر مرہم رکھاجاسکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز