اسلام آباد(ہمگام نیوز ) پشتون تحفظ مومنٹ (PTM) کی جانب سے اپنے رہنما ابراہیم ارمان لونی کی ریاستی قتل کے خلاف منگل کو پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مزکورہ احتجاج پاکستان بلکہ افغانستان کے علاوہ امریکہ کے شہر واشنگٹن ، نیو یارک، جاپان، جرمنی اور سویڈن کے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔پاکستان میں یہ احتجاجی مظاہرے دن دو بجے شروع ہوئے ہیں جبکہ دیگر ممالک کے شہروں میں مقامی وقت کے مطابق ان مظاہروں کا آغاز ہوگا۔ اسلام آباد پریس کلب کے باہر PTM کے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے کے لیے آنے والے افراد کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا جا رہا ہے۔
ایسا پہلی مرتبہ ہونے جا رہا ہے کہ کسی ایک مسئلے پر اتنے زیادہ شہروں میں ایک ہی دن میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہو۔
پشتون تحفظ مومنٹ کے زیر انتظام اس سے پہلے اسلام آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں دھرنے دیے گئے تھے اور یہ تمام دھرنے اور احتجاجی مظاہرے پرامن رہے تھے۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے رہے ہیں۔
پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین، اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ بھی ان احتجاجی مظاہروں میں شرکت کر رہے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ محسن داوڑ شمالی وزیرستان اور علی وزیر بنوں مظاہروں میں شریک ہونگے۔
ابراہیم ارمان رواں ماہ کے آغاز میں لورلائی میں پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران پولیس تشدد کے نتیجے میں جانبحق ہو گئے تھے۔
ان کی قتل کے خلاف ان احتجاجی مظاہروں کی کال پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے دے رکھی ہے جس کے تحت منگل کو دنیا کے 32 شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔
منظور پشتین نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ ابراہیم ارمان لونی کے قتل کے خلاف منعقد اس احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہونگے۔ یہ احتجاجی مظاہرے مختلف شہروں میں اپنے مقامی اوقات کے مطابق ہو رہے ہیں جو دن کے مختلف اوقات میں جاری رہیں گے۔جب کہ ارمان لونی کی بہن وڑانگہ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بھائی کے مارے جانے کا غم نہیں کیونکہ ابراہیم ارمان نے ہمارے پشتون قوم کے لیے قربانی دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ان سے یہ امید تھی کہ وہ مظلوم پشتونوں کے لیے کچھ نہ کچھ کریں گے لیکن جو کام کے بندے ہوتے ہیں ریاست ان کو اٹھا لیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ پتہ ہو نہ ہو لیکن ریاست کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون کام کا آدمی ہے اس لیے ان کو وہ پہلے ہی اٹھا لیتی ہے۔‘
وڑانگہ لونی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ارمان صرف ان کا ہی بھائی نہیں بلکہ پوری پشتون قوم کا بھائی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پوری پشتون قوم ان کے لیے کھڑی ہوئی۔
’ان کے مارے جانے کا غم نہیں کیونکہ ارمان نے اپنے پشتون قوم کے لیے قربانی دی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ وہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کور کمیٹی کے رکن بھی تھے۔


