تہران (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق ایران نے خبر دار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اس کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے حوالے سے معمولی سی بھی غلطی کی تو اس کے دو شہر حیفہ و تل ابیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔
برطانوی اخبار ’دی سن‘ کے مطابق ایرانی فورسز نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ حیفہ اور تل ابیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گی۔
برطانوی اخبار کے مطابق ایرانی فورسز کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی نفسیاتی جنگ نہیں ہو رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل نے کہا کہ اس ضمن میں کی جانے والی معمولی سی بھی غلطی اسرائیل کے دو شہروں کو ملیا میٹ کردے گی۔
اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفارتخانہ قائم کردیا
ایران کے صدر حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف محمد وائیزی کا کہنا ہے کہ ہماری عوام اور خطے کے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ صیہونی ریاست کے افراد کس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیل کے آرمی چیف ایویو کوچاوی نے ایران پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف ایویو کوچاوی نے گزشتہ روز کہا تھ کہ اسرائیلی آرمی کسی بھی وقت ایران پر حملے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی فوج کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایویو کوچاوی کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ ایران نیوکلیئر ڈیل میں شامل ہونے سے باز رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ڈیل میں شامل ہونے سے ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو گا۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کی صلاحیت نہیں ہونی چاہیے۔ انہون ںے کہا تھا کہ ایران پردباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے اقدامات کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل ایویو کوچاوی نے اسرائیلی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم غزہ اور لبنان کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ وہ ایسے علاقوں کو خالی کردیں جہاں ہمارے خلاف اسلحہ ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری فوج کے سخت حملے کے لیے تیار رہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایویو کوچاوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دشمن ایران اور حزب اللہ اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر چکے ہیں۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا تھا کہ ایران حماس اور حزب اللہ کو سالانہ اربوں ڈالرز کی فوجی معاونت کر رہا ہے جس کی وجہ سے ان تنظیموں کو اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی فورسز تشکیل دیں۔


