حیدرآباد (ہمگام نیوز) بلوچ نوجوان سیاسی کارکن غنی امان چانڈیو بلوچ کو اسپتال سے جبری طور پر لاپتہ کیا جانا قابلِ مذمت اور انتہائی غیر انسانی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، غنی امان چانڈیو بلوچ اپنے خاندان کے علاج کے لیے اسپتال میں موجود تھے کہ اسی دوران ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے انہیں جبراً حراست میں لے لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، نہ صرف انہیں غیرقانونی طور پر اٹھایا گیا بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور بچوں کو اسپتال میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، جو ظلم اور سنگ دلی کی بدترین مثال ہے۔
اطلاعات کے مطابق غنی امان چانڈیو بلوچ کے خلاف کسی بھی مقدمے یا الزام کی کوئی اطلاع موجود نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر ریاست کے پاس ان کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے آئینی و قانونی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ واقعہ سندھ میں جاری جبری گمشدگیوں کی ریاستی پالیسی کا ایک اور ثبوت سمجھا جا رہا ہے، جہاں سیاسی کارکنوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پورے معاشرے میں عدم تحفظ، خوف، اور ریاستی جبر کی فضا کو مزید گہرا کرتے ہیں۔


