چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںافغان حکومتی نماہندوں سے مزاکرات کیلئے طالبان کی رضامندی

افغان حکومتی نماہندوں سے مزاکرات کیلئے طالبان کی رضامندی

واشنگٹن (ہمگام نیوزڈیسک) طالبان نے افغان حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کے لیے رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے کوششوں میں بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کے نمائندے آئندہ ہفتے دوحہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے بھی اس پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغان حکومت کے کچھ حکام ان مذاکرات میں حصہ لیں گے لیکن وہ ریاستی نمائندوں کے طور پر نہیں بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کریں گے۔ اس حوالے سے جاری بیان میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ تھا کہ افغان صدر اور دیگر نمائندوں سے اس بات پر تبادلہ خیال ہوا کہ کس طرح دوحہ میں آئندہ ہفتے ہونے والے بین الافغان مذاکرات کو یقینی بنایا جائے، جس میں افغان حکومت اور وسیع سوسائٹی کے نمائندگان شرکت کریں گے جو مذاکراتی عمل کو تیز کرنے کے ہمارے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

دوسری جانب مختلف ذرائع ابلاغ کو جاری ایک علیحدہ بیان میں طالبان نے بھی بتایا کہ گذشتہ مذاکرات کے فریم ورک کے اندر امریکا-طالبان کی اگلی ملاقات اپریل کے وسط میں دوحہ میں منعقد ہوگی۔ واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات کے 6 دور پہلے ہی ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان میں عبوری حکومت کا قیام ڈیڈ لاک کا شکار ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے امریکی فارمولا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔عبوری حکومت کے لیے زلمے خلیل زاد اور دیگر ناموں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ افغان طالبان نے امریکہ کی جانب سے دی گئی تمام تجاویز بھی مسترد کر دی تھیں۔ افغان طالبان نے سیاستدان محمد عمر داؤد زئی اور سابق وزیر انصاد عبدالستار سیرت کے نام بھی مسترد کر دیے تھے۔افغان طالبان نے افغان حکومت سمیت دیگر دھڑوں سے مذاکرات پر مشروط آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز