کابل (ہمگام نیوز ڈیسک) ہمگام نیوزڈیسک کی موصولہ رپورٹس کے مطابق افغان عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت پہلی مرتبہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے گی اور یہ مذاکرات آئندہ 2 ہفتے میں منعقد ہوں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ایک سال سے طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات ہورہے ہیں لیکن طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے ہمیشہ انکار کیا اور انہیں کٹھ پتلی حکومت قرار دیا۔تفصیلات کے مطابق خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق افغانستان کے امن امور کے وزیر مملکت عبدالسلام رحیمی نے دیگر تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ حکومت کا 15 رکنی وفد طالبان سے یورپ میں ملاقات کرے گا۔
ادھر امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد، جو اس وقت کابل کے دورے پر موجود ہیں، نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جب ‘ہمارے اپنے معاہدے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے’ تو ‘انٹرا افغان’ مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں جاری 17 سال سے زائد عرصے سے جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کوششوں میں مسلسل مصروف عمل ہے اور اس سلسلے میں اس کے طالبان سے کئی مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں.افغان امن عمل سے متعلق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتوں سے مذاکرات میں کامیابی کے بعد افغان حکومت سمیت دیگر افغان فریقین سے بھی ملاقات کی جائے گی۔


