چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںامریکا ایران کشیدگی؛ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں نیا بحری بیڑا بھیجنے...

امریکا ایران کشیدگی؛ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں نیا بحری بیڑا بھیجنے کا اعلان کردیا

واشنگٹن(ہمگام نیوز ڈیسک)ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی چند شقوں سے دستبرداری کے بعد امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا ہے، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں نیا بحری بیڑا بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔
پینٹاگون حکام کے مطابق بحری بیڑا لڑاکا طیاروں، جنگی میزائل نظام سے لیس ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکا کا ایک بحری بیڑا پہلے سے موجود ہے، جبکہ بی 52 بمبار طیارے بھی قطر میں امریکی ائیر بیس پر پہنچا دئیے گئے ہیں۔
ایران کی سیاسی قیادت نے بھی امریکا کے آگے گٹھنے ٹیکنے سے انکار کرتے ہوئے مستقبل قریب میں کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں اور بحری بیڑے کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کے بعد دونوں ممالک میں کافی تناؤ پایا جارہا ہے۔
اب امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر ایرانی سیاسی قیادت متنفر دکھائی دے رہی ہے، سیاسی قیادت کے نائب سربراہ نے اپنے انٹرویو کے دوران کہا کہ ہم کسی صورت امریکی قیادت سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔
دوسری طرف امریکی حکام نے خبر دار کیا تھا کہ ایرانی قیادت ہمارے ساتھ بیٹھ کر جوہری معاملات پر بات چیت کرے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے، دوسرے آپشن کے طور پر بی 52 بمبار طیارہ مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر ایرانی قیادت چاہے تو وہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت میرے ساتھ نیوکلئیر پروگرام ترک کرنے پر مذاکرات کرے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کےخلاف فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، امید ہے فوجی تصادم نہیں ہوگا۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا کو پابندیوں سے باز نہ رکھا گیا تو یورینیم کی افزدوگی شروع کردی جائے گی۔
حسن روحانی نے کہا کہ اگر برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی نے 60 دن کے اندر امریکا کی طرف سے ایران پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کے بارے میں کچھ نہ کیا تو ہم بڑے پیمانے پر یورینیم کی افزودگی شروع کر دیں گے۔
دوسری جانب فرانس کی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں امریکا ایران نیوکلیئر ڈیل برقرار رہے، لیکن اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو اسے مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیل کی خلاف ورزی کا سب سے زیادہ نقصان ایران ہی کو ہوگا۔
ٹرمپ کی طرف سے امریکا ایران نیوکلیئر معاہدہ ختم ہوئے ایک سال ہونے کو ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر نہ صرف دوبارہ پابندیاں لگا دی ہیں بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا ہے۔
امریکا نے دوسرے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ ایران سے تیل کی خریداری بند کریں بصورت دیگر ان کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز