واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکا کی بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ مترجم کے طور پر کام یا انھیں دوسری امداد مہیا کرنے والے ہزاروں افراد اور ان کے خاندانوں کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کی تیاریاں تیز کردی ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے بتایا ہے کہ ان افغانوں کی امریکا یا دوسرے ممالک میں داخلے کے لیے درخواستوں کی جانچ پرکھ کی جاچکی ہے۔ان افغانوں نے اپنے ملک میں گذشتہ 20 سال سے جاری جنگ کے دوران میں امریکیوں کی مترجم کے طور پر یا دوسرے کرداروں کی صورت میں مدد کی ہے۔
ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اس منصوبے کے خدوخال کے بارے میں قانون سازوں کو آگاہ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔
صدر جوبائیڈن کے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کا 11 ستمبر تک انخلا مکمل ہوگا۔اس سے قبل کانگریس کے ارکان ،سابق فوجی اور دوسرے عہدے دار ان کی انتظامیہ پر یہ زوردے رہے ہیں کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں میں معاونت کرنے والوں کو جنگ زدہ ملک سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
ری پبلکن پارٹی کے مشی گن سے تعلق رکھنے والے رکن پیٹر میجر نے گذشتہ ہفتے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہمارے لیے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگانے والے بہادر اتحادیوں کو تحفظ مہیا کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہم ان کے لیے منصوبہ واضع کرنے کی غرض سے مہینوں انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں لیکن اس عمل کے بہت تھوڑے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کو کانگریس میں اس معاملے میں دونوں جماعتوں کے اراکین کی حمایت حاصل ہے۔اس نے اس سال نائن الیون سے قبل افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور افواج کے انخلا کا اعلان تو کر رکھا ہے مگر ان افغانوں کی مدد کے لیے کسی منصوبے کا واضح اعلان نہیں کیا ہے۔
امریکا کے مددگار افغانوں کے انخلا کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر جو بائیڈن جمعہ کو افغان صدر اشرف غنی اور اعلیٰ مصالحتی قومی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کرنے والے تھے ۔


