لاہور(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان میں اڈے نہیں بلکہ سی آئی اے کا مرکز بنانے اور سی پیک کا منصوبہ لپیٹنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین سید کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سی آئی اے پاکستان میں ہیڈ کوارٹر بنانے کا تقاضا کر رہا ہے اور امریکہ کا مطالبہ ہے کہ سی پیک کو ختم کر دیا جائے۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ اس کے جواب میں وزیراعظم نے امریکہ سے کہا ہے کہ جتنا مرضی دباو ڈالوہم چین کیساتھ تعلقات نہیں توڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی لائف لائن کاٹنا چاہتا ہے، پاکستانی رہنماوں نے متفقہ طور پر امریکی مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوام کو بھی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے کیونکہ کسی بھی ملک کے عوام اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کرسکتے ہیں۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے یہ جو بیان دیا ہے کہ کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کریں گے صرف امن کا ساتھ دیں گے، اب وزیراعظم کے خطاب کا انداز بدل چکا ہے، وہ ناپ تول کر بات کرتے ہیں۔
پاکستان افغان جنگ میں کود کر پہلے بھی حماقت کر چکا ہے، اب تیسری عالمی جنگ ہونیوالی ہے، روس نے بھی کہا ہے کہ اب جو جنگ ہو گی وہ تیسری جنگ عظیم ہوگی۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ وزیراعظم نے جوش خطابت میں کہہ دیا ہے جنگ میں حصہ دار نہیں بنیں گے، امن کیلئے حصہ دار بنیں گے، تو یاد رکھیں جتنا نقصان جنگ میں ساتھ دینے کا ہے اتنا نقصان امن کیلئے بھی ساتھ دینے کا ہے، کیونکہ امریکہ امن والا ملک ہی نہیں، اس نے امن کے نام پر جنگیں کی ہیں، ایران پر پابندیاں امن قائم کرنے کیلئے لگائی گئی ہیں، امریکہ جو حماقت کرتا ہے امن کے نام پر کرتا ہے۔ لہذا امام خمینی کہتے تھے کہ ہم شیطان کیساتھ کسی بھی کام میں شریک نہیں ہوں گے۔ شیطان اپنے خیر کی دعوت میں بھی شر رکھتا ہے اور یہ خود ایک شر محض ہے۔


