تہران(ہمگام نیوزڈیسک) ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے امریکہ کی طرف سے لگائی جانے والے پابندیوں کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے ،کہ گذشتہ برس نومبر میں امریکہ کی طرف سے تہران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق جواد ظریف نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات ڈیڑھ ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر ایک ملین بیرل روزانہ پر آگئی ہیں۔جس کی وجہ سے ایران میں سخت معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی طرف سےایرانی تیل کی خریداری کے لیے 8 ملکوں کو دیا گیا عارضی مدت استثنیٰ اپریل کے آخر میں ختم ہونے کے بعد تہران کیا کرے گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ایران متبادلہ امکانات کو استعمال کرے گا۔ تاہم انہوں نے متبادل امکانات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
واضع رہے امریکی ایوان نمائندگان، کانگرس نے 15 نومبر کو کثرت رائے سے ایران کے خلاف عاید ان پابندیوں کی مزید دس سال کے لیے تجدید کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کو دہشت گردی کی حمایت ،بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ان کے تجربات کو جواز بنا کر ایران پر یہ پابندیاں عاید کی تھیں۔ امریکی کانگریس میں بالادستی کے حامل ریپبلکنز پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت ردعمل جاری رکھیں گے اور وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں بھی ترمیم کرسکتے ہیں تاکہ اس کو خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت کی پالیسی سے باز رکھا جاسکے۔


