یکشنبه, مارچ 15, 2026
Homeخبریںانڈیا کے شہریوں کو فی الحال جرمنی آنے کی اجازت نہیں دے...

انڈیا کے شہریوں کو فی الحال جرمنی آنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں : جرمن سفیر

دہلی (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق بھارت میں تعینات جرمن سفیر نے بالواسطہ طور پر کہا ہے کہ بھارتی شہریوں کے جرمنی آنے پر فی الحال پابندی عائد رہے گی اور حالات بہتر ہونے کے بعد ہی بعض سفری پابندیاں ختم کی جا سکیں گی۔

ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت میں جرمنی کے سفیر والٹر لِنڈنر کا کہنا تھا کہ جب سفری پابندیاں ختم ہوجائیں گی تب ہم ان بھارتیوں کا اور بالخصوص طلبہ کا جو ہماری بین الاقوامی برداری کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں،جرمنی میں ایک بار پھر خیر مقدم کریں گے جنہوں نے کووڈ کے دونوں ٹیکے لگوا لیے ہوں گے۔

جرمن سفیر کا کہنا تھا بیشتر ممالک کورونا وائرس کی نئی قسم سے خوف زدہ ہیں۔ اور خود بھارت بھی کسی دوسرے ملک سے اپنے ہاں کورونا کی کسی بھی نئی قسم کو پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔ اس لیے بیشتر یورپی ممالک نے بعض سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ جب جرمن سفیر سے پوچھا گیا کہ جو لوگ کووی شیلڈ ویکسین لگوا چکے ہیں آیا انہیں بھی جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی حالانکہ اب جرمنی سمیت سات یورپی ملکوں نے کووی شیلڈ کے مؤثر ہونے کو تسلیم بھی کر لیا ہے. تو والٹر لِنڈنر نے کہا کہ جن لوگوں نے کووی شیلڈ ویکسین لگوائی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں اب جرمنی میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ سفر پر اب بھی پابندی ہے۔ جو بھارتی سفر کرنا چاہتے ہیں وہ کووی شیلڈ لگوا کر اسے اینٹی کووڈ ویکسینیشن کے ثبوت کے طور پر پیش کر کے یورپ کا سفر کر سکتے ہیں۔لیکن یہ کوئی انٹری کارڈ نہیں ہے۔ سفری پابندیاں اب بھی برقرار ہیں خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی میڈیسن ایجنسی نے بھارت میں لگائی جانے والی کوویکسن اور کووی شیلڈ نامی دونوں ویکسینز کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وجہ سے یورپی ملکو ں کا سفر کرنے والے بھارتیوں کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوگئی تھیں۔

تاہم اطلاعات کے مطابق اب جرمنی کے علاوہ چھ دیگر یورپی ممالک آسٹریا، سلووینیا، یونان، آئرلینڈ اور اسپین نے بھی کووی شیلڈ کو تسلیم کر لیا ہے۔

جرمن سفیر نے امید ظاہر کی کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے، ”مجھے امید ہے کہ سفر کا سلسلہ جلد ہی بحال ہو جائے گا۔ جرمنی اور یورپ میں اس وقت تیسری لہر ہے جبکہ بھارت میں بھی اس کا خدشہ ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو والٹر لِنڈنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارتی حکومت نے کورونا وائرس کے بحران سے اچھی طرح نمٹنے کی کوشش کی ہے تاہم اسے ممکنہ تیسری لہر کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار رہنا چاہیے۔

سفری پابندیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ پریشان وہ بھارتی طلبہ ہیں، جو جرمنی کی کسی نہ کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ جرمنی میں بھارتی طلبہ کی بہت بڑی تعداد ہے اور جرمن ادارے ڈی اے اے ڈی کے مطابق اس تعداد میں گزشتہ برس بیس فیصد اضافہ ہوا تھا۔

بھارت میں جرمنی کے سفیر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ بڑی تعداد میں بھارتی طلبہ جرمنی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہاں کا تعلیمی نظام بہت اچھا اور مفت بھی ہے۔

انہوں نے کہا اس وقت جرمنی میں تقریباً پچیس ہزار بھارتی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو کسی بھی یورپی ملک حتیٰ کہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبہ کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ بعض طلبہ تعلیم شروع کرنے سے قبل ہی بھارت میں پھنس گئے۔

جرمن سفیر نے بتایا ہم نے آج سے ہی طلبہ کے لیے اپنے ویزا سیکشن کھول دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جب سفری پابندیاں ختم ہوں، تو ان کے لیے آگے جانے کا عمل زیادہ آسان رہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز