اورماڑہ(ہمگام نیوز) آمدہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات بلوچ مزاحمتکاروں نے مکران کوسٹل ہائی وے پر گوادر ٹو کراچی جانے والے بسوں پر فائرنگ کردی اب تک کی اطلاعات کے مطابق 14 افراد ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق مسلح مزاحمتکاروں نے 4 سے 5 مختلف بسوں کو روکا گیا اور کچھ لوگوں کو شناخت کرنے کے بعد انہیں دور لے جاکر فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ہلاک شدہ افراد کی لاشیں اورماڑہ منتقل کی جارہی ہیں۔
جبکہ وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو کے مطابق ہلاک شدگان کو بسوں سے اتار کر 14 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا واقعہ کوسٹل ہائی وے پر بزی چڑھائی کے مقام پر گزشتہ رات پیش آیا۔
وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہ تمام 14ہلاک شدگان کے شناختی کارڈز چیک کرکے دیکھنے کے بعد انہیں بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا۔کچھ اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کے لیے پاکستانی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ہلاک شدگان میں سے بعض کا تعلق بھی پاکستانی فورسز سے بتایا جاتا ہے۔ایک اہلکار نے بتایا اس حملے کے بعد حملہ آور آواران کے پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے پاکستانی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ اورماڑہ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ایسے واقعات کی ذمہ داری بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیمیں قبول کرتی آرہی ہیں۔اورماڑہ کراچی کے قریب بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل ہے۔ کوسٹل ہائی وے پر کراچی اور گوادر کے درمیان چلنے والی گاڑیاں اس علاقے سے گزرتی ہیں۔
لیویز ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اورماڑہ کے علاقے بزی چڑھائی کے قریب پیش آیا، جہاں پر مسلح مزاحمتکاروں نے کراچی سے گوادر اور گوادر سے کراچی جانے والی مختلف مسافر بسوں کو روکا۔
مسلح افراد نے مختلف افراد کو شناخت کے بعد بسوں سے اتارا، کچھ فاصلے پر لے جا کر ان کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر ان کے سروں پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، تمام ہلاک شدگان کا تعلق غیر مقامی اور پاکستانی فورسز سے بتائے جا رہے ہیں۔جبکہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو اورماڑہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہیں .


