روم (ہمگام نیوزڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ 2 روزہ سرکاری دورے پر اٹلی پہنچے جہاں دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 29 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جبکہ اٹلی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ہونے والا جی سیون کا پہلا رکن بن گیا ہے۔اٹلی نے چین کے ساتھ اس کی نئی شاہراہ ریشم کا حصہ بننے کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اٹلی جی 7 کا پہلا ملک ہے جو چین کے متنازعہ ’بیلٹ اینڈ روڈ سرمایہ کاری پروگرام‘ کا حصہ بنا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ اور اور اٹلی کے وزیراعظم گیوسیپے کونٹ نے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، اطالوی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب یورو سے 7 ارب یورو (5 ارب 60 کروڑ ڈالر سے 8 ارب ڈالر) مالیت کے منصوبوں پر دستخط ہوئے۔
چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ کمیشن کےچیئرمین ہی لیفنگ اور اٹلی کے نائب وزیراعظم اور وزیر معاشی ترقی لیوگی ڈی مائیو نے معاہدے پر دستخط کیے۔خیال رہے کہ اٹلی سے ان معاہدوں کے بعد چین کو اپنے وسیع منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ کے ذریعے ایشیا کو یورپ سے ملانے کے لیے علامتی کامیابی ملی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تجارت اور دیگر معاملات پر چین پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں اسی لیے یورپی یونین ممالک کی جانب چین سے معاہدے کرنے والا پہلا ملک اٹلی بن گیا ہے۔لیوگی ڈی مائیو نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی اپنے تمام اتحادی امریکا، نیٹو اور یورپی ممالک کے ساتھ ہے لیکن اپنے معاشی مفادات کوبھی دیکھنے ہیں۔اٹلی کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ‘امریکا میں کسی نے کہا تھا کہ سب سے پہلے امریکا، اسی طرح میں کہوں گا کہ معاشی تعلقات میں سب سے پہلے اٹلی’۔واضح رہے کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں گزشتہ برسوں سے تاحال مجموعی طور پر ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے بارے میں چین کا دعویٰ ہے کہ 150 ممالک نے اس منصوبے سے منسلک کئی معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں۔
امریکا، جاپان اور بھارت سمیت کئی ممالک کو چین کے اس منصوبے سے خدشات لاحق ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح چین پوری دنیا میں اپنے اثر رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔


