زاہدان (ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نیوز “رسانک” کی سالانہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اعداد و شمار اور تفصیلات جنوری 2026 میں جاری کی گئی تھیں۔ تاہم سیاسی اور سکیورٹی حالات کے باعث مکمل سالانہ رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر ہوئی۔ جنوری میں ایران بھر میں احتجاج، انٹرنیٹ پر سخت پابندیوں، اور بعد ازاں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث ایران میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ اور رابطوں کی بندش رہی، جس کی وجہ سے حتمی رپورٹ جاری نہیں کی جا سکی۔ اب جاری ہونے والی رپورٹ 2025 میں بلوچستان کی انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کا مکمل اور جامع ریکارڈ پیش کرتی ہے۔
2025 میں 137 بلوچ شہریوں کی سزائے موت
جمع کردہ اور تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایران کے 27 مختلف جیلوں میں 137 بلوچ قیدیوں کو سزائے موت دی گئی۔ سب سے زیادہ 34 پھانسیاں زاہدان جیل میں ہوئیں، اس کے بعد بیرجند میں 16 اور مشہد میں 14 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
جرائم کی نوعیت کے مطابق:
منشیات سے متعلق جرائم: 94 افراد (68.6%)
قتل: 36 افراد (26.3%)
سیاسی و عقیدتی الزامات: 4 افراد (2.9%)
زیادتی کے الزامات: 2 افراد (1.5%)
نامعلوم الزام: 1 فرد (0.7%)
سکیورٹی کارروائیوں میں 173 بلوچ شہری شہید و زخمی
2025 میں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، گھروں پر چھاپوں، بارودی سرنگوں اور تشدد کے واقعات میں کم از کم 173 افراد متاثر ہوئے، جن میں 107 شہید اور 66 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں 3 خواتین اور 1 بچہ شامل ہے، جبکہ زخمیوں میں 16 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔
نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں 407 افراد متاثر
نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں 266 افراد جانبحق اور 141 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں 8 خواتین اور 16 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 6 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 11 واقعات میں چاقو جیسے ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں 9 افراد جانبحق اور 2 زخمی ہوئے۔
کم از کم 305 سوختبر (ایندھن بردار)متاثر، 211 گرفتار
سال 2025 میں سوختبری کے دوران مجموعی طور پر 173 افراد جانبحق اور 132 زخمی ہوئے۔
ٹریفک حادثات: 131 اموات، 80 زخمی
سکیورٹی کارروائیاں: 37 شہید، 44 زخمی
ڈوبنے کے واقعات: 2 اموات
آتشزدگی: 1 جانبحق، 7 زخمی
نامعلوم فائرنگ: 2 جانبحق، 1 زخمی
اس دوران 211 سوختبر گرفتار بھی کیے گئے۔
978 بلوچ شہریوں کی گرفتاریاں
2025 میں کم از کم 978 افراد گرفتار کیے گئے، جن میں 394 افراد شناختی دستاویزات سے محروم تھے۔ 19 اجتماعی گرفتاریاں اور 12 واقعات ایسے تھے جن میں ایک کارروائی میں 5 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
جیلوں میں 10 افراد کی ہلاکت و زخمی
2025 میں کم از کم 9 بلوچ قیدی جیلوں میں جان سے گئے جبکہ ایک شخص دورانِ علاج یا چھٹی کے دوران ہلاک ہوا، اور ایک زخمی ہوا۔ 6 اموات طبی عدم توجہی کے باعث ہوئیں۔
6 طلبی و غیر رسمی نگرانی کے واقعات
کم از کم 6 افراد کو طلب کیا گیا، جن میں علما، صحافی، بلاگرز اور سماجی کارکن شامل ہیں۔ اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی: 45 متاثرہ بچے
2025 میں 18 بچے جانبحق اور 27 زخمی ہوئے۔ وجوہات میں تشدد، طبی غفلت، فائرنگ، حادثات، بجلی کا کرنٹ اور دیگر واقعات شامل ہیں۔ 20 طلبہ کے زہر خورانی کا بھی ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔
خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی: 23 متاثرہ خواتین
21 خواتین جانبحق اور 2 زخمی ہوئیں۔ 10 خواتین کو قریبی رشتہ داروں نے قتل کیا، جبکہ 8 اموات طبی غفلت سے ہوئیں۔ دیگر واقعات میں تشدد، حادثات اور فائرنگ شامل ہیں۔
مزدوروں کے مسائل: 49 متاثرہ مزدور
2025 میں 32 مزدور جانبحق اور 17 زخمی ہوئے۔ مزید 115 افراد کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
خودکشی کے 11 واقعات
10 افراد ہلاک اور 1 بچ گیا۔ 5 واقعات پھانسی، 3 فائرنگ، 2 خودسوزی اور 1 نامعلوم طریقہ سے ہوئے۔
گھروں کی مسماری: 37 واقعات
چاہ بہار میں 17، زاہدان میں 15 اور دیگر علاقوں میں 5 واقعات رپورٹ ہوئے۔
25 مزدور احتجاجی ہڑتالیں
مزدروں اور کارخانوں میں کارکنان کی 14، ٹرک ڈرائیورز کی 4، ڈاکٹروں کی 3، اساتذہ کی 2 اور دیگر شعبوں کی 2 ہڑتالیں ریکارڈ ہوئیں۔
ڈوبنے سے 31 اموات
2025 میں 31 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے جن میں 18 بچے شامل تھے۔ واقعات دریاؤں، سمندر، کنوؤں، ڈیموں اور دیگر آبی مقامات پر پیش آئے۔














