زاہدان (ھمگام رپورٹ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مختلف واقعات میں 48 گنٹھوں کے دوران پانچ بلوچ جانبحق ہوگئے ۔ ایک زخمی اور پانچ گرفتار ہوگئے ۔
تفصیلات کے مطابق 8 جون 2026 کو ایرانشہر کے رہائشی 24 سالہ بلوچ نوجوان مصطفیٰ (مجتبیٰ) برتر، جو 7 جون کی شب ایک جھگڑے کے دوران فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے، علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں آپریشن میں تاخیر نے ان کی حالت مزید خراب کر دی، جس کے نتیجے میں ان کی جان چلی گئی۔
مزید رپورٹ کے مطابق 10 جون 2026 کو نیکشہر کے گاؤں کناردر کی رہائشی 20 سالہ رخسانہ جامکی عقرب کے ڈنک کے پانچ دن بعد دم توڑ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی طبی سہولیات اور بروقت علاج کی عدم دستیابی کے باعث انہیں تقریباً 24 گھنٹے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے تھے۔
اس کے علاوہ 10 جون 2026 کی صبح نرماشیر سے بزمان جانے والی شاہراہ پر ایندھن بردار گاڑی الٹنے اور آگ لگنے کے نتیجے میں 21 سالہ بلوچ سوختبر حسین بارانی (ایجباری) جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے کے بعد گاڑی مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئی جس سے وہ شدید جھلس گئے۔
مزید اطلاعات کے مطابق اسی روز 10 جون 2026 کو سرباز سے ایرانشہر جانے والی شاہراہ پر 22 سالہ بلوچ سوختبر فرہاد سابکی کی گاڑی واپسی کے دوران الٹ گئی۔ شدید زخمی ہونے کے باعث وہ موقع پر ہی جانبر نہ ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق 9 جون 2026 کی صبح جالق میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر پانچ بلوچ شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد کی شناخت یحییٰ رئیسی، نظیر رئیسی، ہادی رئیسی، مہدی رئیسی اور احمد رئیسی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گرفتاری کے دوران تشدد بھی کیا گیا جبکہ تاحال ان پر عائد الزامات یا حراست کی جگہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
مزید تفصیلات کے مطابق 10 جون 2026 کو زاہدان میں 13 سالہ بلوچ بچے اکبر داوودی کی تدفین عمل میں آئی، جس کی لاش اسپتال کے اخراجات ادا نہ ہونے کے باعث نو دن تک اسپتال میں روکی گئی تھی۔ اکبر 31 مئی 2026 کو ایک مسلح جھڑپ کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے اور یکم جون کو اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تقریباً 400 ملین تومان کے اخراجات ادا نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال نے لاش ورثا کے حوالے نہیں کی۔ بعد ازاں مقامی لوگوں اور مخیر حضرات کی مالی مدد سے رقم جمع ہونے پر لاش ورثا کے حوالے کی گئی۔
اسی واقعے میں زخمی ہونے والے 14 سالہ یاسین شہ بخش اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور متعدد آپریشنوں سے گزر چکے ہیں۔
پس منظر
رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 407 بلوچ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جن میں 266 افراد جاں بحق اور 141 زخمی ہوئے۔ اسی عرصے میں سوختبری سے متعلق حادثات، فائرنگ، آتشزدگی اور دیگر واقعات میں 173 سوختبر ہلاک اور 132 زخمی ہوئے، جبکہ 211 سوختبروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
ان تازہ واقعات نے ایک بار پھر بلوچستان میں امن و امان، طبی سہولیات کی کمی، سڑکوں کی خراب صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین خدشات کو اجاگر کر دیا ہے۔















