ھمگام رپورٹ
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ پیر 8 جون 2026 کو اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے، جن میں فوجی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور پیٹروکیمیکل مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد ایران کے کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں واقع پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملہ کیا۔ ایرانی خبر رساں اداروں، بشمول فارس نیوز، نے تصدیق کی ہے کہ ماہشہر کی کارون پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماہشہر کے علاقے میں پیٹروکیمیکل انفراسٹرکچر سے متعلق متعدد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم نقصانات اور ممکنہ جانی ہلاکتوں کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اسی دوران اصفہان میں بھی اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں آسمان کی جانب اٹھتے سفید دھوئیں کے بڑے بادل دکھائی دیے۔ بعض ذرائع کے مطابق حملے کا ہدف زمین سے زمین تک مار کرنے والے طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں سے متعلق ایک فوجی اڈہ تھا۔ ایرانی حکام نے اس حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔
دوسری جانب تہران، اصفہان، کرمانشاہ اور یزد سمیت متعدد شہروں میں یکے بعد دیگرے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ دھماکے اسرائیل کے تازہ حملوں کے دوران ہوئے، تاہم متاثرہ مقامات، نقصانات اور ممکنہ ہلاکتوں سے متعلق معلومات محدود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے وسطی اور مغربی علاقوں میں واقع بعض فوجی اہداف ان حملوں کا مرکز رہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں نصب اسٹریٹجک فضائی دفاعی نظاموں کے خلاف ایک وسیع آپریشن مکمل کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق یہ کارروائی ایران کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کی گئی جن کے ذریعے وہ پہلے سے متاثرہ دفاعی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد فضائی دفاعی نظام تباہ ہوگئے ہیں، جس سے ایرانی فضائی حدود میں اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیوں کی آزادی میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ تمام حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گزشتہ شب ایران اور اسرائیل کے درمیان مختصر اور غیر مستحکم جنگ بندی عملی طور پر ختم ہوگئی۔ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے گئے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے ایران کے مختلف فوجی اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پورے خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں مزید فوجی کارروائیوں کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔














