تل ابیب (ھمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ القدس فورس کے زیر قیادت ایرانی ملیشیاؤں نے دمشق کے بیرونی اطراف سے اسرائیلی اراضی پر راکٹ داغنے کی کوشش کی تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ پیر کی صبح شام سے متعدد راکٹ داغے گئے تاہم ان میں سے کوئی بھی اسرائیل کے اندر نہیں پہنچ سکا۔
اسرائیلی فوج نے شامی اراضی سے کی گئی ہر کارروائی کا ذمے دار بشار حکومت کو ٹھہرایا۔
اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے ترجمان افخائے ادرعی نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے شامی حکومت کو خبردار کیا کہ “اس نے ایرانیوں اور شیعہ ملیشیاؤں کو اس بات کی کھلی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ شامی اراضی کے اندر سے کارروائیاں کریں۔ شامی حکومت نے اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے”۔
اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب شام کے مشرقی حصے میں ایرانی فورسز اور ان کے ہمنوا گروپوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق کارروائی میں 18 جنگجو مارے گئے۔ المرصد نے فوری طور پر حملہ کرنے والے فریق کا تعین نہیں کیا۔
اسرائیل اب تک شام میں ایران اور حزب اللہ کے اہداف پر سیکڑوں حملے کر چکا ہے تاہم اس نے بہت ہی کم ان کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے۔
اسرائیل اس عزم کا اظہار کرتا رہا ہے کہ وہ شام میں ایران کے عسکری وجود کو قدم جمانے نہیں دے گا۔


