سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںایرانی وزیرخارجہ شدیدسیاسی،معاشی دباوکے بعد اپنے عہدے سے مستعفی

ایرانی وزیرخارجہ شدیدسیاسی،معاشی دباوکے بعد اپنے عہدے سے مستعفی

تہران(ہمگام نیوزڈیسک) دنیا کے بڑی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے کے خالق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی معاشی پابندیوں کے بعد شدید اندرونی سیاسی و عوامی دباوں اور معاشی بدحالی کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کردیا ہے۔

انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 67ماہ میں ایرانی عوام اور حکام کی سخاوت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، یہ کام جاری نہ رکھنے اور نوکری کے دوران تمام تر کوتاہیوں پر میں انتہائی معذرت خواہ ہوں، خوش رہیں، آباد رہیں،لیکن میں اس عہدے پر مزیدکام نہیں کرسکتا۔ جبکہ انہوں نے اپنے اس فیصلے کی اندرونی اصل وجہ بیان نہیں کی۔

2015 میں ایران سے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے عالمی طاقتوں سے تاریخی جوہری معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جواد ظریف نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

گزشتہ ماہ امریکا کی جانب سے معاہدے کے خاتمے اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں لگائے جانے کے بعد مغرب مخالف عناصر نے سابق ایرانی وزیر خارجہ پر حملے شروع کر دیے تھے۔

جواد ظریف کے استعفے کے بعد امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ظریف کو ایرانی صدر حسن روحانی اور ایران کی کرپٹ مذہبی مافیہ کا فرنٹ مین قرار دیا۔امریکہ میں ایرانی مشن کے ترجمان علی رضا میر یوسفی نے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک صدر حسن روحانی نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کہ وہ اس استعفے کو قبول کریں گے یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جواد ظریف کا استعفیٰ منظور کر لیا جاتا ہے تو اس سے حسن روحانی پر مزید دباؤ بڑھے گا جنہیں مشکلات سے دوچار ایرانی معیشت کے سبب اپنے مخالفین کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

1960 میں پیدا ہونے والے جواد ظریفی 17سال کی عمر سے امریکا میں رہے اور وہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈپلومیٹ کے عہدوں پر فائز رہے اور پھر 2002 سے 2007 تک ایرانی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے پر انہیں وزیر خارجہ مقرر کیا گیا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ ایرانیوں کیلئے عالمی دنیا کے دروازے کھولیں گے۔لیکن سخت گیرمزہبی شیعہ ملارجیم کی وجہ سے بیرونی دنیا خاص کر امریکہ سے اختلافات کی وجہ سے اس کے برعکس ثابت ہوکر عالمی دنیا میں ایرانی سیاست مسلسل ناکامی کی جانب گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز