پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںایرانی ڈرون کے 80 فیصد سے زیادہ پرزے امریکی ساختہ

ایرانی ڈرون کے 80 فیصد سے زیادہ پرزے امریکی ساختہ

تہران کو ڈرون بنانے سے روکنے کے لیے مغرب کی زیادہ کوششیں ضروری ہوگئیں

لندن ( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق یوکرین میں جنگ روس کے زمین حملے سے شروع ہوئی، روس نے یوکرینی زمین پر قبضہ کیا اور پھر کچھ علاقوں کی خودمختاری کا اعلان کیا گیا، یوکرین جوابی حملے کے لیے تیار ہوا اور اس دورا ن اسے امریکی اور مغربی حمایت حا صل رہی۔ یوکرین کی جنگ میں تازہ ترین روسی حملوں کو پسپا کرنے کے لیے مشہور ترین امریکی دفاعی نظام ’’پیٹریاٹ‘‘ بھیجنے کا اعلان کر دیا گیا۔

بہت سے فوجی ماہرین کے مطابق یہی وہ واحد عنصر تھا جس پر روسیوں نے غور نہیں کیا۔ روس کا خصوصی فوجی آپریشن 24 فروری 2022 کو شروع ہوا تھاا ، روس کا مقصد طویل المدتی جنگ نہیں تھا، روس سوویت ہتھیاروں کے زنگ آلود ڈپو کا سہارا لے رہا تھا ۔ یوکرین کے اپنے علاقے واپس لینے کے بعد سے روسی صدمے کا آغازہوا۔

فوجی اور آپریشنل سطح پر اور جنگ چھٹے مہینے تک پہنچنے کے ساتھ مبصرین کی توجہ اگست سے یوکرین کی سرزمین پر ایرانی ڈرونز کی موجودگی کی طرف مبذول ہو گئی ۔ ایسی چیز تھی جس سے ایران نے ابتدا میں کسی بھی قسم کا تعلق ہونے کی تردید کردی ۔ صرف اتنا کہا کہ یہ ڈرون اس نے روس کو جنگ شروع ہونے سے قبل فراہم کیے تھے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جب ان ڈرونز کے وسیع پیمانے پر روسی استعمال کی خبریں آنے لگے، پھر معلوم ہوا کہ روس ان ڈرونز کو یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور اس نے ان ڈرونز کے ذریعے اپنے حملوں کو پورے یوکرین میں پھیلا دیا ہے۔ یہ ڈرون سستے ہیں اور دور سے کنٹرول کئے جا سکتے ہیں اور اس طریقے سے زیادہ جانی نقصان کا بھی خطرہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اور مغرب ملک کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ ایران کو ان ڈرونز کی تیاری سے روکا جائے۔ حیران کن طور پر گزشتہ موسم خزاں میں یوکرین میں گرائے گئے ان ڈرونز میں سے ایک کے اندر 13 سے زیادہ امریکی اور مغربی کمپنیوں کے پرزے ملے تھے۔

امریکی نیوز نیٹ ورک “سی این این” کے مطابق یوکرین کی انٹیلی جنس معلومات جو گزشتہ سال کے اواخر میں امریکی حکومت کے اہلکاروں کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں اس مسئلے کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں جو امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو درپیش ہے۔ ایران کی جانب سے ان ڈرونز کی پیداوار کو روکنے کا وعدہ کیا گیا ہے جو روس یوکرین میں سینکڑوں کی تعداد میں استعمال کرتا ہے۔ پابندیوں کے باوجود ایران کے پاس اب بھی تجارتی طور پر دستیاب ٹیکنالوجی کی فراوانی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ڈرون بنانے والی کمپنی ایرانی ایئر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن ایچ ای ایس اے 2008 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

سی این این کے مطا بق اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک محکمانہ ٹاسک فورس بنائی ہے جو اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ اس قسم کی امریکی اور مغربی ٹیکنالوجی ایران تک کیسے پہنچی- چھوٹے آلات جیسے سیمی کنڈکٹرز اور جی پی ایس یونٹس سے لیکر انجن جیسے دوسرے بڑے حصے ایرانی ڈرونز میں استعمال ہو رہے ہیں۔

انٹیلی جنس تشخیص کے مطابق ایرانی ڈرون ’’شاہد 136‘‘ سے الگ کئے گئے 52 اجزا میں سے سے 40 کو 13امریکی کمپنیوں نے تیار کیا تھا۔ باقی 12 اجزا کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، جاپان، تائیوان اور چین کی کمپنیوں نے تیار کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز