ریاض (ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق عرب اتحاد نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر حملوں کے لیے ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔
عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوموار کے روز سعودی دارالحکومت الریاض میں نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ’’اتحاد کسی بھی حملے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تیل کی اہم تنصیبات کا دفاع بھی کرسکتا ہے۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’ان ڈرون حملوں کی تحقیقات جاری ہے اور یہ اشارے ملے ہیں کہ دونوں حملوں میں استعمال کیے گئے ہتھیار ایران سے آئے تھے۔اب اس امر کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ ہتھیار(ڈرون) کس طرف سے چھوڑے گئے تھے۔‘‘
کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی تکمیل کے بعد انھیں میڈیا کے لیے عام کردیا جائے گا۔
عرب اتحاد کے ترجمان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس بات سے آگاہ ہے کہ ان حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ کارفرما ہے لیکن وہ اس کی تصدیق اور سعودی جائزے کا ابھی منتظر ہے اور اس کے بعد مزید لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گا۔
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں گذشتہ ہفتے کے روزعلی الصباح آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں آرامکو کی خام تیل کی بہم رسانی عارضی طور پر معطل ہوئی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ان حملوں سے ستاون لاکھ بیرل خام تیل کی یومیہ سپلائی متاثر ہوئی ہے۔یہ آرامکو کی کل پیداوار کا پچاس فی صد ہے۔
یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے ان ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ایک امریکی عہدے دار کے مطابق یہ ڈرون شمال مغربی سمت کی جانب سے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے لیے بھیجے گئے تھے اور یمن سے جنوب کی سمت سے نہیں آئے تھے۔
امریکی حکام نے سیٹلائٹ تصاویر سے انیس پوائنٹس کی نشان دہی کی ہے جن سے تیل تنصیبات پر اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔