چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںایران اور پاکستان مشترکہ طور پر بلوچستان میں جنگی جرائم کے مرتکب...

ایران اور پاکستان مشترکہ طور پر بلوچستان میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں،”حیربیار مری

لندن (ہمگام نیوز) بلوچ رہنما واجہ حیر بیارمری نے کہا کہ 1927میں جب ایرانی حکومت کے رضا خان پہلوی نے میر دوست محمد سے ایران کی حاکمیت قبول کرنے اور ان کے سامنے
سرینڈرکرنے کو کہا۔
اور بدلے میں ذاتی استحقاق کے میردوست محمد خان نے انکار کر دیا اور پھر انہوں نے کوشش کی اپنے لوگوں کو اکٹھا کرے تاکہ ایرانی جارحیت کا مقابلہ کر سکے ۔ میر دوست محمد خان کے انکار نے رضا خان پہلوی کو غصہ دلا دیا اور اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ بلوچستان پر حملہ کرے۔1928 کو امیر امان اللہ جہان بانی کی قیادت میں ایرانی فوج نے بلوچستان پر چڑھائی کردی اور آخر کار میر دوست محمد کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور 16جنوری 1930 کو انہیں پھانسی دیدی گئ ۔
میر دوست محمدخان نے خان محراب خان کی طرح نہ سرینڈر کیا اور نہ ہی غلامی کو قبول کی۔
ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قوم اسی وقت سے مظالم سہہ رہی ہیں ۔ ایران نے اب تک ہزاروں معصوم بلوچوں کو پھانسی دے کے قتل کر چکی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ بلوچ ایسے ہیں جو ایرانی مظالم کو نظرانداز کر رہے ہیں ۔ ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف اور اپنے ہی پیروکاروں کو ایک غلط آسرا دے رہے ہیں کہ ایران ان کی مدد کریگی ۔اسی سوچ کے ساتھ وہ شدید غلط ہے کہ پاکستان سے آزادی لینے میں ایران ان کی مدد کریگی ۔ ایران اور پاکستان ایسے جرائم میں ساتھی ہیں اور بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جرائم میں برابر کے حصہ دار ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز