تہران ( ہمگام نیوز ) ایران میں ایک عدالت نے مہساامینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک اورشخص کوسزائے موت سنادیہے۔
نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق جواد روحی کو’فسادفی الارض‘ کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ وہ شمالی شہر نوشہرمیں ہونے والے مظاہروں کے ‘رہنما’ تھے جہاں ان پر مبیّنہ طور پر ‘اہم مجرمانہ کارروائیوں’ میں شریک ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق روحی پر متعدد جرائم میں ملوّث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ان میں عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور قرآن مجیدکو نذرآتش کرکے ارتداد کا ارتکاب کرنا شامل ہے۔وہ اب اپنی سزائے موت کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائرکر سکتے ہیں۔
عدالت نے یہ فیصلہ عرشیہ تقدستان نامی ایک اور شخص کو نوشہرہی میں مظاہروں کی قیادت کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے چند روز بعد سنایا ہے۔
ایران پہلے ہی چار مظاہرین کو پھانسی دے چکا ہے۔ان میں محمد مہدی کرامی اور محمد حسینی شامل ہیں۔انھیں ہفتے کے روز تختہ دار پرلٹکایا گیا تھااور محسن شکاری اور ماجد رضا راہ نورد کو گذشتہ ماہ پھانسی دی گئی تھی۔
ایرانی حکام کے مطابق ایک درجن سے زیادہ دیگر مظاہرین کو بھی سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔اوسلو سے تعلق رکھنے والے گروپ ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے اطلاع دی ہے کہ مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں حراست میں لیے گئے کم سے کم 100 ایرانیوں کو سزائے موت سنائے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔
ایران میں یہ مظاہرے ستمبر کے وسط میں تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔اب مظاہرین شیعہ مذہبی حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ احتجاجی تحریک 1979ء میں برپاشدہ انقلاب کے بعد اس مذہبی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
حکومت ان مظاہروں کو ‘فسادات’ کے طور پر دیکھتی ہے اوراس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کوغیرملکی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔


