ہمگام اداریہ

موجودہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال، بالخصوص ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں نے علاقائی سیاست کو ایک نہایت حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں کا ایک طبقہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ چونکہ ایرانی ریاست اس وقت متعدد خارجی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے، اس لیے بلوچ قومی جدوجہد کے لیے یہ ایک “سنہرا موقع” ہے۔ یہ رائے بظاہر پرکشش ضرور محسوس ہوتی ہے، لیکن ہم اگر جذبات سے ہٹ کر جیو پولیٹیکل حقائق، تاریخی تجربات اور زمینی معروضات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو یہ سوچ زیادہ تر ایک سیاسی مغالطہ دکھائی دیتی ہے۔

 کرد تحریک کا عراق کے اندر انیس سو پچھتر اور ازاں بعد دوہزار سترہ کو جو بد عہدی ہوئی اور نتیجے میں کرد قومیں مزاحمتی تحریک جس طرح کا نقصان ہوا وہ آج بھی تاریخ کے پنوں پر واضح انداز میں درج ہے۔ اسی طرح اہم اتحادی بن کر داعش کے خلاف شام کے محاذ پر موجود کرد مزاحمتی گروہوں کو جس طرح دوہزار انیس کی انخلا کے بعد ترک جارحیت کے سامنے بے یار و مدد چھوڑا گیا وہ سب تاریخ اسباق ہیں جنہیں کم از کم بلوچ قوم کو ہمیشہ بطورِ نظیر سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔

ذہن میں رہے کہ قومی تحریکوں کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ کوئی قابض ریاست کسی دوسرے محاذ پر الجھی ہوئی ہے، بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ خود وہ تحریک کس حد تک منظم، سیاسی طور پر بالغ، سماجی طور پر جڑی ہوئی اور عملی طور پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تیار ہے۔

مقاصد کا بنیادی فرق

سب سے پہلی اور بنیادی حقیقت مقاصد کا اختلاف ہے۔

بلوچ قومی جدوجہد کا مقصد ایرانی ریاستی بندوبست سے آزادی اور بلوچ عوام کے حقِ وت واجہی کا حصول ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف حکمتِ عملی کا مقصد نہ ایرانی ریاست کا خاتمہ ہے اور نہ ہی ایران کے زیرِ انتظام قومیتوں کو آزادی دلانا۔ ان کی ترجیحات بنیادی طور پر کم و بیش درج ذیل ہیں

ایران کی فارورڈ پالیسی کو محدود کرنا۔

شام، لبنان، فلسطین، عراق اور یمن میں ایرانی اثرورسوخ اور پراکسی نیٹ ورک کو کمزور کرنا۔

ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود رکھنا۔

خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے مطابق برقرار رکھنا۔

ان مقاصد میں بلوچ قومی سوال سے جڑا ہوا کوئی بھی ایسا نقطہ سرے سے شامل ہی نہیں جو یہ ثابت کرسکے کہ ہاں اس تابڑ توڑ حملوں کے پسِ پشت کوئی ایسی چھوٹی سی بھی امکان موجود ہے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی اپنے آپ کو انکے ساتھ نتھی کرسکے۔ اس لیے یہ تصور کرنا کہ ایران پر بیرونی دباؤ خود بخود بلوچ آزادی کی راہ ہموار کر دے گا، بین الاقوامی سیاست کی نوعیت کو غلط سمجھنے کے مترادف ہے۔

بلوچ کو اپنے مفادات کے لیئے اور اپنے ہی زور بازو سے اپنی جنگ کو نہ صرف لڑنا ہے بلکہ اسے کامیابی سے ہمکنار بھی کرنا ہے تو ایسے میں بلوچ تحریک آزادی کو کسی معرکے سے جوڑنا اور اسکی تشریح ایسے کرنا کہ جیسے یہ جنگ بلوچ قومی آزادی ہی کی تحریک کو فائدہ پہنچانے کے لیئے شروع ہوئی ہے محض بچگانہ زہنی اختراع ہوگا۔ بلوچ پالیسی ساز حلقے کم از کم اس بات پر ضرور سوچیں گے کہ کسی بھی دورانیئے میں کوئی بھی فیصلہ لینا خود بلوچ اجتماعی مفادات کے لیئے کس حد تک فائدہ مند یاکہ نقصان دہ ہوسکتا ہے، اگر اس دوران یہ دیکھا گیا کہ بلوچ قومی اجتماعی مفادات کی نگہبانی بہتر انداز میں ہوسکتی ہے تو کسی بھی قابض کے خلاف طبلِ جنگ بجائی جاسکتی ہے چائے اس قابض ریاست پر کوئی بیرونی دباو ہویا نہ ہو۔

ملٹری انفراسٹرکچر بمقابلہ داخلی جبر کی مشینری

حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کا زیادہ تر نشانہ ایران کی اسٹریٹجک تنصیبات، میزائل انفراسٹرکچر، فضائی دفاع، عسکری صنعت اور بعض اہم فوجی مراکز رہے ہیں۔

بلاشبہ ایسے حملے کسی بھی ریاست کی عسکری صلاحیت پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ کسی ریاست کی اندرونی گرفت صرف جنگی اڈوں سے قائم نہیں رہتی۔

ایران کے اندر بلوچ عوام پر ریاستی کنٹرول کا بنیادی ذریعہ وہ مقامی جبر کی مشینری ہے جس میں پاسدارانِ انقلاب، بسیج، پولیس، انٹیلی جنس نیٹ ورک، مقامی سیکورٹی فورسز اور انتظامی ڈھانچہ شامل ہیں۔ یہی ادارے روزمرہ نگرانی، گرفتاریوں، چیک پوسٹوں، اطلاعاتی نیٹ ورک اور سیاسی کنٹرول کے ذریعے داخلی نظم قائم رکھتے ہیں۔

اگر فضائی حملوں سے چند فوجی تنصیبات متاثر بھی ہوں تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ یہ داخلی ادارے اپنی صلاحیت کھو بیٹھیں گے۔

 ریاستیں اکثر بیرونی جنگوں کے باوجود اندرونی سلامتی کے نظام کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہیں، اور فی الحال ہمیں ایرانی منظرنامے یہی تاثر غالب نظر آیا ہے کہ آیت اللہ و دیگر انتظامی سربراہان کے مارے جانے کے بعد بھی ایرانی قابض ریاست داخلی طور کسی خاص دباو کا شکار نہیں ہے۔

تاریخ میں ایسے متعدد مواقع آئے ہیں جب کسی طاقتور ریاست کو بیرونی دباؤ یا جنگ کا سامنا تھا، مگر اس کے باوجود داخلی تحریکیں کامیاب نہ ہو سکیں، کیونکہ ان کے اپنے داخلی وسائل، تنظیمی ڈھانچے یا سیاسی حالات اس سطح پر موجود نہیں تھے۔

اسی طرح بعض مواقع پر بیرونی حالات نے واقعی جنگ یا تحریک کا رخ تبدیل کیا، لیکن صرف اس وقت جب داخلی مزاحمت پہلے سے موجود، منظم اور مسلسل سرگرم تھی۔

ویسے ہی آج بلوچ قومی تحریک ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے اندر بھی اپنی ایک منظم قوت اور موجودگی رکھتی ہے، وقت و حالات کے چناو کے سبب ہی خاموشی بطور ہتھیار استمال کی جاتی ہے۔

 کم از کم نقصان اور جیوپولیٹیکل بنیادوں پر موافق سیاسی و عسکری مواقعوں کے انتظار اسی لیئے ضروری ہے تاکہ کامیابی کے امکانات دو چند ہوسکیں۔ کیونکہ بلوچ قومی تحریک کا بنیادی مطلب جنگ برائے جنگ ہرگز نہیں ہے، بلوچ آزادی پسند پالیسی ساز حلقوں کی بنیادی مقصد جنگ برائے مقصدیت ہے۔

 نام و نمود اور اپنے آپ کو طرم خان ثابت کرنے کے لیئے یقینا جذبات کو انگیخت کرکے ایک جنگ شروع کی جاسکتی ہے لیکن سیاسی بددیانتی اور فکری کج روی سے پنپتے نام و نمود کی نقصانات تحریک آزادی کی بنیادی فکری ڈھانچے کو کھوکھلا کردیتی ہیں۔

جیو پولیٹیکل حقیقت

بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔

امریکہ، اسرائیل، روس، چین یا دیگر بڑی طاقتیں اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کے مطابق مرتب کرتی ہیں نہ کہ کسی قوم کی تاریخی محرومیوں کی بنیاد پر۔اسی لیے کسی بھی قومی تحریک کے لیے یہ خطرناک مفروضہ ہے کہ کسی بڑی طاقت کی ایران مخالف پالیسی لازماً بلوچ قومی مقاصد سے بھی ہم آہنگ ہوگی۔

تاریخ اس کے برعکس متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات بدلنے کے ساتھ اپنی ترجیحات بھی بدل دی ہیں، جبکہ مقامی تحریکیں انہی زمینی حقائق کے ساتھ تنہا رہ گئی تھیں۔

نتیجۂ فکر

ایران پر امریکی اور اسرائیلی دباؤ بلاشبہ خطے کی سیاست میں تبدیلیاں پیدا کر رہی ہے، مگر اسے بلوچ قومی تحریک کے لیے خودکار آزادی کے موقع کے طور پر دیکھنا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں۔

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ بیرونی جنگیں کسی ریاست کو وقتی طور پر کمزور کر سکتی ہیں، اس کی ترجیحات بدل سکتی ہیں یا اس کے وسائل تقسیم کر سکتی ہیں، لیکن وہ کسی قوم کو آزادی کا “پکا پکایا پھل” پیش نہیں کرتیں۔

قومی آزادی کی تحریکیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اپنی داخلی طاقت، سیاسی بصیرت، عوامی بنیاد، تنظیمی ڈھانچے اور طویل المدت حکمت عملی کو مضبوط بناتی ہیں۔ جلد بازی کے بجائے فیصلہ کن حالات اور مواقعوں کا انتظار کرتی ہے ۔

 بیرونی حالات بعض اوقات ان کے لیے سازگار فضا پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اس فضا سے فائدہ صرف وہی تحریک اٹھا سکتی ہے جو پہلے سے منظم، حقیقت پسند اور اپنے مقاصد کے بارے میں واضح ہو لیکن تحریک انتظام و انصرام کے دوران جلد باز عناصر نہ صرف تحریک انتظام کو سبوتاژ کرنے کا باعث بنتے ہیں بلکہ وہ پیدا ہونے والی ممکنہ موقعوں کا بھی ضٓئع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

لہٰذا جذباتی نعروں اور وقتی جیو پولیٹیکل اتار چڑھاؤ سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنے کے بجائے، بلوچ قومی تحریک کے لیے زیادہ دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی داخلی سیاسی قوت، سماجی بنیاد، تنظیمی صلاحیت اور معروضی تجزیے کو اپنی اصل طاقت بنائے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر کوئی بھی قومی تحریک دیرپا سیاسی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔