زاھدان ( ہمگــام نیوز) آمدہ اطلاع کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشھر اور نیکشھر کے درمیانی راستے میں دو گاڑیوں کی آپسی تصادم سے 2 افراد جانبحق جبکہ دو شدید زخمی ـ زخمیوں کو طبعی امداد کے لیئے قریبی ہسپتال لے جایا گیا ہے ـ دریں اثنا ایرانشہر کے ایک اور واقعے میں نا معلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک بلوچ نوجوان یاسر براہوی جانبحق ہوگئے تاہم گزشتہ 30 گھنٹوں کے دوران اسی ایرانشھر میں مختلف واقعات میں 9 افراد مارے گئے ـ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قابض ایرانی پاسداران انقلاب کی سرپرستی میں چلنے والی ڈیتھ اسکواڈ نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ چوری ڈکیتی، راھزنی اور مختلف جرائم میں ملوث ڈیتھ اسکواڈ کو دہشتگرد قابض ایران کی آرمی پاسداران انقلاب مکمل طور انکو سپورٹ کر رہا ہے اور اسلح سمیت ان چوروں اور قاتلوں اپنی گاڑیاں بھی فراہم کر رہا ہے ـ
ایک اور واقعے میں دہشتگرد ایرانی فورسز کی فائرنگ سے ایک کرد ادریس رحیمی ولد عزیز نامی شخص جو کہ کردستان کے علاقے پیرانشہر کا رہائشی تھا جانبحق ہوگیا کہا جاتا ہے کہ ادریس رحیمی ایک ” کولبر “( کولبر کا مطلب کوئی شخص اپنے کندھے پر سامان لادھ ایک جگہ سے دوسرے جگہ لے جاتا ہےـ اعمال) تھا جو کہ کسی کوھستانی علاقے سے گزر رہا تھا اپنے کندھے پر لدھے سامان کے ساتھ اسے دہشتگرد فورسز نے دیکھتے ہی گولیوں سے چھلنی کر دیا ـ یہ واقع گزشتہ روز صبح کے وقت ھنگ میں دو خاندانوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں تین بلوچ جان بحق جبکہ دیگر تین زخمی ہو گئے ہیں۔ جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کی گئی ہے۔
مرنے والوں میں مُلا خان محمد اور اُن کا ایک بیٹا اسلم بلوچ شامل ہیں۔ جبکہ ایک اور بیٹا محسن شدید زخمی ییں۔
دوسرے فریق کا ایک شخص جان بحق اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
سرباز شہر کے بینسل ہانگ سرحدی علاقے میں کلان جھڑپوں میں 6 افراد جانبحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
مقامی زرائع کا کہنا ہے ایرانی دہشتگرد فوج کے ذریعہ آتشیں اسلحے کی پھیلاؤ اور تقسیم اور قبائلی تنازعات کو ہوا دینے کے نتیجے میں بلوچستان میں روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور مظلوم عوام کیلئے عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔


