سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبراہمدغ بگٹی کا بھارت میں سیاسی پناہ لینے کا فیصلہ،چند روز میں...

براہمدغ بگٹی کا بھارت میں سیاسی پناہ لینے کا فیصلہ،چند روز میں درخواست دیں گے

جنیوا (ہمگام نیوز)نواب براہمدغ بگٹی کی زیرِصدارت بلوچ ریپبلکن پارٹی کا ایک اعلٰی سطحی اجلاس جینیوا میں منعقد ہوا۔ جس کا مقصد بلوچستان کے طول و عرض میں جاری ریاستی دھشت گردی میں تیزی کے علاوہ بھارتی حکومت سے بلوچ قومی رہنما نواب براہمدغ بگٹی اوربلوچ سیاسی کارکنان کیلئے سیاسی پناہ کی باقاعدہ درخواست اور پاکستانی کے فوجی جرنیلوں سے متعلق کاروائی اورحکمت عملی کے علاوہ دوسرے اہم امور زیرِ بحث لائے گئےانھونے گزشتہ روز ہندوستان میں دہشتگرد حملے اور اس کے نتیجے میں بھارتی فوجیوں کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ہم بھارتی عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انھونے کہ بھارتی وزیراعظم کے بلوچستان کے بارے بیان اور ہماری اس بیان کے خیر مقدم کے بعد پاکستانی آرمی کی بلوچستان میں مظالم میں تیزی لائی گئی۔ ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، مکران سمیت بلوچستان بھر میں فوجی کاروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے عام آبادیوں پر گن شپ ہیلی کاپٹرز اور زمینی فوج کے ذریعہ حملہ کرکے ۱۵۰ سے زائد بے گناہ بلوچوں کو شہید کیا گیا اور خواتین اور بچوں سمیت دو سو سے زائد افراد کو اغواہ کرنے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔ سوئی سے ملنے والی اجتماعی قبر سے پندرہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جنھیں شہید کرنے کے بعد ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ تربت میں بلوچ سیاسی کارکن کے گھر کا محاصرہ کرکے سات روز تک عورتوں اور بچوں کو گھر کے اندر جبری طور پر قید کیا گیا اور بالاخر بائیس سالہ بلوچ خاتوں کو اسکی تین سالہ اور ایک مہینے کے بچے کے ساتھ اغواہ کرکے لاپتہ کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم کے بیان اور ہماری طرف سے اسکی خیر مقدم کے بعد ہمارے خلاف مقدرمات درج کیے گئے ۔ آج بلوچ ری پبلکن پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس بلانے کا مقصد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارتی یوم آزادی کے موقع پر بلوچستان میں پاکستانی مظالم کو اجاگر کرنے اور اس بیان کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر بلوچستان اور بلوچ قومی جدوجہد آزادی کے بارے بھی بڑھتی ہوئی آگاہی کے تناظر میں پارٹی حکمت عملی ترتیب دینا تھی۔ اجلاس گزشتہ رات سے جاری تھا جو آج صبح اختتام پزیر ہوا جس میں یہاں موجودہ مرکزی کمیٹی کے ممبران اوربلوچستان سے مرکزی کمیٹی کے مابین تفصیلی مشاورت اور بحث مباحثہ کے بعد ان نقاط پر متفقہ طور پر پارٹی پالیسی ترتیب دیا گیا۔ بلوچ رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس میں طے شدہ پالیسی کا پہلا نقطہ بلوچستان میں سن دو ہزار سے فوجی آپریشن کا آغاز اور اس کے نتیجے میں ڈاڈائے بلوچ شہید نواب اکبر بگٹی سمیت ہزاروں بلوچ فرزندان کی شہادت، جنگی جرائم اور بلوچ نسل کشی میں ملوث اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی ایم آئی، بلوچستان میں تعینات آرمی کور کمانڈر سمیت اس وقت سے لیکر آج تک کے مذکورہ عہدوں پر فائز رہنے والے تمام افراد کے خلاف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ سمیت یورپ بھر میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ پالیسی کا دوسرا نقطہ کے تحت چین کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جایا جائے گا کیونکہ یہ چین ہی ہے جو بلوچ وسائل پر بلوچ قوم کی مرضی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر قابض ہو رہا ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر بلوچ قوم کا استحصال کر رہی ہے اور بلوچ قوم کا خون بہاکر اقتصادی راہداری پر کام کیا جارہا ہے جس کا براہ راست فائدہ چین اور پنجاب کو ہورہا ہے اور بدلے میں بلوچ قوم کو مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ چونکہ چین اس جرم میں پاکستان کا برابر کا شریک ہے لہاظہ چین کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس کا جواب دینا ہو گا اس سلسلے میں قابل وکلاء سے مشاورت کے بعد افغانستان، ہندوستان اور بنگلادیش کی مدد سے عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ اجلاس میں تیسرہ نقطہ یہ طے پایا کہ بی آر پی کی صدر کی حیثیت سے ایک ہفتے کے اندر میں ہندوستان میں سیاسی پناہ کی باقائدہ درخواست جمع کرونگا کیونکہ سوئٹزرلینڈ میں چھ سال تک سیاسی پناہ کی درخواست زیر سماعت رہنے کے باوجود سفری دستاویزات نہیں مل سکے جس سے بلوچستان میں جاری پاکستانی مظالم اور بلوچ نسل کشی کے خلاف دنیا بھر میں آگاہی پھیلانے اور بلوچ قومی جدوجہد کے بارے میں عالمی برادری میں راہ ہموار کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں پناہ کی درخواست ان تمام بلوچوں کیلئے بھی کی جائے گی جو اسوقت بلوچستان میں ریاستی بربریت کا شکار ہیں جن کے عورتوں اور بچوں تک کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں اور ان بلوچوں کیلئے جو ۲۰۰۵ کے فوجی آپریشن کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ کر افغانستان میں خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں آئے دن پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکار ان کو نشانہ بناتے ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی بے جا مداخلت خود افغانستان کے لئے درد سر ہے ایسے میں بھارت کا ذمہ دار ہمسایہ اور سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کے ناطے فرض بنتا ہے کہ وہ انسان دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے متاثرہ بلوچوں کو پناہ دینے کے لیئے مثبت اقدامات کرے۔ اجلاس میں طے پانے والی پالیسی کے حوالے سے یورپ بھر میں بی آر پی چیپٹرز کو احکامات جاری کردی جائیں گی اور اس پر آج سے کام شروع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز