شال ( ہمگام نیوز ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر شال سریاب جامعہ بلوچستان کے سامنے بیبگر بلوچ، انکے بھائی ڈاکٹر حمل بلوچ ، اور دیگر جبری گمشدہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر بی وائی سی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ اس ملک و آئین کے تحت تھا، لیکن اس ملک کے آئین و قانون کو فوجی جیب میں ڈالے گھومتے ہیں۔ آج ہماری جنگ صرف فورسز سے نہیں بلکہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی ہے ، کیونکہ وہ ان فورسز کے سب سے بڑے آلہ کار ہیں، یہی ادارے جبری لاپتہ افراد کو مفرور قرار دیتے ہیں اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یقین کریں بلوچ آپ کے بیانیئے سے بہت دور جاچکی ہے۔ گذشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان پر قوت آزمائی کررہے ہیں۔
ڈاکٹر نے کہاکہ بغیر قانونی کاروائی کے گرفتار افراد کو ریمانڈ پر دیا جارہا ہے۔ کل ہم سڑکیں بند کریں گے پھر آپ آجائے اپنی انہی کنٹیرز کیساتھ –
اس موقع پر صبغت اللہ شاہ جی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے جتنا اسلام کو بدنام کیا اور کسی نے نہیں کیا۔
انھوں نے کہاکہ رمضان کے مہینے میں لوگوں پر تشدد کرکے ان کے پیاروں کو لاپتہ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب نام اسلام کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر پولیس نے مظاہرین کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی مگر عوامی دباؤ کے پیش نظر پولیس کو پسپا ہونا پڑا اور مظاہرہ کیا گیا۔


