یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچستان جبری لاپتہ زاہد بلوچ کے کزن سمیت 7 افراد...

بلوچستان جبری لاپتہ زاہد بلوچ کے کزن سمیت 7 افراد جبری لاپتہ،بعد ازاں دو بازیاب ہوگئے

شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ مستونگ میں گزشتہ رات تقریبا ساڑھے بارہ بجے کے وقت کلی قمبرانی سے قابض پاکستانی فورسز نے تین افراد فضل الرحمٰن قمبرانی، ضیاء الرحمٰن قمبرانی اور شہرباز بنگلزئی شامل ہیں کو جبری لاپتہ کردیا ۔

خیال رہے مذکورہ افراد میں سے فضل الرحمٰن اور ضیاء الرحمٰن کو اس سے قبل مارچ 2025 میں بھی جبری لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں ایک ماہ بعد اپریل میں رہا کر دیا گیا ۔

علاوہ ازیں خضدار کے علاقے نال سے پاکستانی فورسز نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے سابق چیئرمین و گیارہ سال سے جبری لاپتہ رہنماء زاہد بلوچ کے چچا زاد بھائی بیبرگ بلوچ ولد عبدالمالک سکنہ اسد نور مارکیٹ، نال کو تیس جولائی شام تقریبا چھ بجے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا ۔ بیبرگ بلوچ ایک سرکاری ملازم ہے۔
یاد رہے رواں سال مارچ میں زاہد بلوچ کے بھائی شاہ جان بلوچ کو نال میں دن دہاڑے ڈیتھ اسکوائڈ کارندوں نے قتل کر دیا تھا۔

بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج جبری گمشدگیوں کو بطور اجتماعی سزا کے استعمال کررہی ہے۔

ادھر ضلع بولان میں پاکستانی فورسز نے گُل میر نامی نوجوان کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے ۔

دوسری جانب 23 جون 2025 کو بلوچستان کے ضلع بولان میں میاں کور کے علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران دو افراد جلال ولد اللہ داد مری اور ایک نامعلوم شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق دونوں کو آج، 31 جولائی کو لورالائی سے بازیاب ہو گئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز