زاہدان(ہمگام نیوز) گزشتہ روز جمعہ کو بلوچ عالم دین مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی نے بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حالیہ بیانات کا براہِ راست جواب دیے بغیر کہا ہے کہ وہ ان بیانات کے بارے میں فیصلہ عوام اور اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے عوام اور اللہ کا فیصلہ کافی ہے۔
جمعے کے خطبے میں مولوی عبدالحمید نے عوام، علما، قبائلی عمائدین، ماہرینِ تعلیم اور معاشرے کے دیگر طبقات کی جانب سے کیے گئے ردعمل اور ’’منصفانہ فیصلے‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکام کو امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق صوبے اور ملک کے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ان کا حق اور حکام کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حالیہ معاملات کے بارے میں مرکزی حکومت کے حکام کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔
مولوی نے انتہاپسندانہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بلوچستان اور ملک میں انتہاپسندی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئی اور آئندہ بھی نہیں ہوگی۔‘‘
بلوچستان میں موجود نسلی اور مذہبی تنوع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں شیعہ اور سنی برادریاں ایک دوسرے سے قربت اور رشتہ داری رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اعتدال، تدبر، میانہ روی، دوراندیشی اور عوام کے احترام کی پالیسی ہی اس خطے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
مولوی عبدالحمید نے بلوچستان میں خدمات انجام دینے کے لیے مقرر کیے جانے والے حکام سے کہا کہ انہیں دوراندیش اور خطے کی ثقافت سے واقف ہونا چاہیے اور عوام پر ’’غیر ضروری دباؤ‘‘ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں خطے میں اغوا برائے تاوان، راستے بند کرنے، بھتہ خوری اور مغویوں پر تشدد میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے عوام کے لیے درد اور مشکلات پیدا کردی ہیں۔
انہوں نے بعض مغوی افراد پر تشدد کی تصاویر منظر عام پر آنے اور ان کی رہائی کے لیے بھاری رقوم طلب کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کارروائیوں میں ملوث افراد کو انسانیت سے عاری قرار دیا۔
مولوی عبدالحمید نے خطے میں موجودہ سطح پر اغوا برائے تاوان کی صورتحال کو ’’خطے کی تاریخ میں بے مثال‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بادشاہت اور قبائلی نظام کے ادوار میں بھی اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد بھی اس نوعیت کی صورتحال کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
مولوی صاحب نے حکام پر زور دیا کہ وہ قانونی اختیارات اور دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اغوا برائے تاوان میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری عمل میں لائیں۔ انہوں نے علما اور قبائلی عمائدین سے بھی کہا کہ انہیں اغوا کاروں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’جو شخص اغوا کار کی حمایت کرتا ہے، اس نے دین اور قوم سے خیانت کی ہے۔‘‘
مولوی عبدالحمید نے اغوا کاروں اور مسلح ڈاکوؤں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مارے گئے تو وہ اور دیگر علما و عوام ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔
انہوں نے ان افراد کو جو عوام کے راستے بند کرکے اغوا یا مسلح ڈکیتی کے ذریعے علاقے میں بدامنی پیدا کرتے ہیں، ’’راہزن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے افراد مارے گئے تو کوئی ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے بھی نہیں جائے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ ہفتوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اغوا برائے تاوان، جبری گمشدگی، بھتہ خوری اور مسلح ڈکیتی کے واقعات میں اضافے کی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں، جس کے باعث یہ مسئلہ صوبے کے عوام کے لیے اہم ترین سکیورٹی اور سماجی خدشات میں شامل ہوگیا ہے۔


