کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے بلوچستان میں جاری آپریشنوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کے اغواء کی تسلسل کو بے احتیاط کاروائیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی مخدوش صورت حال کو تشدد کا استعمال مزید گھمبیر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فورسز طاقت کے استعمال کو اولیت دے کر بے احتیاطی سے ریاستی طاقت کو عام لوگوں پر استعمال کررہے ہیں۔ اس طرح کی کاروائیوں کا شکار براہ راست عام لوگ بن رہے ہیں۔ بلوچستان کے تمام علاقوں میں سول انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود فورسز کی تعیناتی صورت حال کو اس نہج تک پہنچا چکی ہے کہ عام لوگوں میں انصاف کے حوالے سے مایوسی اور ناامیدی کا عنصر نمایاں ہورہا ہے۔ لوگوں کی اغواء و گمشدگی کے تسلسل کو ایک دہائی سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے، روزانہ کی بنیاد پر درجن بھر لوگ اغواء کے بعد خفیہ مقامات پر منتقل کردئیے جاتے ہیں، اس کے بعد مغوی کا اپنے خاندان سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوپاتاہے۔ گزشتہ چند سالوں سے خواتین کی اغواء کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔ آج کاہان میں ایک آپریشن کے دوران دو خواتین کی بچوں سمیت گمشدگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے شہریوں کے لئے حکومت کی جانب سے دوہرا معیار رکھا جارہا ہے۔ ملک کے کسی اور حصے سے اکثربیشتر لوگوں کی گمشدگیاں میڈیا اور سول انتظامیہ اورسول سوسائٹی کو حرکت میں لاتی ہیں، جو کہ قابلِ تعریف اقدام ہے، لیکن اس کے برعکس بلوچستان سے اغواء ہونے والے لوگوں کے اغواء کی ایف آئی آر تک درج نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں تربت، آواران، دشت اور کوہِ سلیمان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ان کاروائیوں کے دوران عام لوگوں کی گرفتاری کو ماورائے قانون قرار دیتے ہوئے کہا رواں ماہ کی نصف تک بی ایچ آر او کو گمشدگیوں کی 70کیسز موصول ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ اس طرح کی کاروائیوں کا تسلسل اگر برقرار رہا تو حالات مزید پر تشدد ہوجائیں گے، جس سے انسانی جانوں کی ضیاع کے ساتھ ساتھ نکل مکانی اور جبری گمشدگی جیسے سنگین مسائل کا عام لوگوں کو سامنا کرنا پڑے گا۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے پنجگور سے گزشتہ مہینے اغواء ہونے والے نوجوان وژدل و لد فقیر کی مسخ شدہ لاش کی بسیمہ سے برآمدگی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا فورسز کی حراست میں لوگوں کا قتل انسانیت سوز اور سفاکانہ واقعہ ہے۔مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کی وجہ سے ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندان اپنے گمشدہ لواحقین کی زندگیوں کے حوالے سے عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ ترجمان نے اعلی اداروں سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنانے اور آئے روز کی ماورائے عدالت اغواء نما گرفتاریوں کا سلسلہ روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔