کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری عبداللہ عباس بلوچ نے حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی متعلق اعلان پر اپنے رد عمل میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔آئے روز سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اور حکومتی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے بلوچستان ایک انسانی بحران کا منظر نامہ پیش کررہا ہے۔
لاپتہ افراد کا مسلئہ ایک انسانی مسلئہ ہے اسے سیاسی مفادات کے برعکس انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے لوگوں کو لاپتہ کرنے کے سلسلے کو روکا نہیں جاتا لاپتہ افراد کا مسلئہ دن بدن پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا۔
بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری نے بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو کے بیان جس میں انہوں نے لاپتہ افراد کی تعداد دو سو بتائی تھی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی عہدیدار اپنی غیر ذمہ داری کو اپنے بیانات سے چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جس کا خمیازہ بلوچستان کے غریب و مظلوم عوام بھگت رہے ہیں۔
رواں سال کے صرف چھ مہینوں میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے 349افراد کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جن میں چالیس سے زائد طالب علم شامل ہیں۔
تیس جون کو نو لاپتہ افراد کو بازیاب کیا گیا جبکہ اسی دن مند کے علاقے میں ماسٹر ناصر کے گھر پر چھاپہ مار کر اسکے بیٹے اسد ناصر کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
بلوچستان میں فورسز کی بلاتفریق کاروائیوں کی وجہ سے کوئی بھی فرد اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔ فوسز اور خفیہ اداروں کے اہلکار لوگوں کو دن دھاڑے اٹھا کر لاپتہ کرتےہیں اور دوران حراست غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی پیچیدہ اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں سے 7000 افراد کی گمشدگی کے بعد مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ حکومت اگر اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے انکے تجربات قلم بند کرکے عوام کے سامنے لائےاور لوگوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل میں ملوث فورسز اور خفیہ اداروں کےذمہ داران کو قانون اور آئین کے تحت سزا دے.


