Homeخبریںبلوچستان کے مختلف علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون کی تعیناتی، شہریوں میں...

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون کی تعیناتی، شہریوں میں تشویش ۔ رپورٹ

زاہدان (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان مختلف علاقوں میں قابض ایرانی آرمی سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے فاطمیون اور زینبیون ملیشیا کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث مقامی شہریوں میں تشویش اور نگرانی کا احساس بڑھ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، 10 ستمبر 2026 کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی متعدد رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سپاہ پاسداران نے گزشتہ چند ماہ کے دوران فاطمیون اور زینبیون سے وابستہ بڑی تعداد میں اہلکاروں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا ہے۔

فاطمیون میں بنیادی طور پر افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو شامل ہیں، جبکہ زینبیون میں زیادہ تر پاکستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو شامل رہے ہیں۔ دونوں گروپ ماضی میں ایران کی سپاہ قدس کی حمایت میں سرگرم رہے ہیں۔

 ذرائع کے مطابق زاہدان، میرجاوہ، راسک، گُشت، سراوان، زابل، سیب و سوران، چابہار، کنرک، زرآباد اور ایرانشہر کے اطراف میں فاطمیون اور زینبیون کے سینکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق خاش کے علاقے پسکوہ کے ایک مقام پر بھی ان فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔ مذکورہ علاقے کو مبینہ طور پر ’’ممنوعہ علاقہ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور عام شہریوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اسی طرح سراوان کے علاقے گُشت میں اہل تشیع کی مسجد کے عقب میں اہلکاروں کی موجودگی، جبکہ جالق کے علاقے میں چاہ حاجی غوث بخش کے اطراف بھی ان فورسز کی تعیناتی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں مقامی بسیج کے کچھ مراکز مقامی اہلکاروں سے لے کر فاطمیون کے ارکان کے حوالے کیے گئے ہیں۔ اس اقدام پر بعض مقامی بسیجی اہلکاروں میں بھی مبینہ طور پر اعتراض اور تشویش پائی جاتی ہے۔

ممکنہ احتجاج پر کارروائی کا خدشہ

بلوچستان کے مقامی شہریوں نے غیر ایرانی مسلح اہلکاروں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں علاقے میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو ان فورسز کو مظاہرین کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بعض شہریوں نے مقامی قبائلی عمائدین، معتمدین اور بزرگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں غیر ایرانی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے معاملے پر اپنا کردار ادا کریں اور ان فورسز کے ان علاقوں سے انخلا کے لیے آواز اٹھائیں۔

شہریوں کے مطابق ایسے اقدامات سے علاقے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز