شال(ہمگام نیوز) بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گوھرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف سرزمین کے دفاع، قومی آزادی اور حق خودارادیت کی خاطر مختلف معرکوں میں قابض پاکستانی فوج کی فضائی بمباری اور جھڑپوں میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے اپنے تمام مخلص اور نڈر سرمچاروں، شہید محمد حسن، شہید نواز علی، شہید عبیداللہ، شہید وسیم، شہید شیر جان، شہید سمیر احمد، شہید عزیر احمد، شہید سکندر، شہید محمد یونس، شہید بابر، شہید تیمور شاہ، شہید جمعہ، شہید ریاض اور شہید ضیاء الحق کو گراں قدر الفاظ میں خراجِ عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ شہید محمد حسن عرف احمد ولد صاحب خان، سکنہ کُڈّی قلات نے 2026 کے آغاز بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آزادی کی مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی۔عسکری تربیت اور فکری پختگی حاصل کرنے کے بعد وہ قلات کے پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ وہ ایک انتہائی مخلص، جفاکش اور پابندِ ڈسپلن سرمچار تھے، انہوں نے 13 اگست کی صبح قلات کے علاقے پندران میں دشمن کے جیٹ طیاروں کی بمباری میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
شہید نواز علی عرف دلشاد ولد محمد اکبر، سکنہ پندران قلات، سال 2024 سے بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے بطور شہری گوریلا اپنے قومی فرائض انتہائی پراثر انداز میں سرانجام دے رہے تھے۔ دشمن کی نظروں میں آنے کے بعد تنظیمی فیصلے کے تحت آپ 2026 کو پہاڑی محاذ پر منتقل کر دیے گئے۔ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے کے بعد، 13 اگست کی صبح دشمن کی فضائی بمباری کے نتیجے میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔
شہید عبیداللہ عرف شاہین ولد عبداللہ، سکنہ سوراب نے 2026 کو بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے اپنے باقاعدہ انقلابی سفر کا آغاز کیا۔ عسکری تربیت کے بعد آپ قلات کے دشوار گزار محاذ پر منتقل ہوئے۔ 13 اگست کی صبح پندران قلات میں دشمن کے جیٹ طیاروں کی بمباری کے دوران آپ بہادری سے میدانِ عمل میں ڈٹے رہے اور وطن کی آزادی کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
شہید وسیم عرف فرحان ولد محمد جان، سکنہ چتکان بازار پنجگور نے 24 جون 2026 کو بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری تربیت کے بعد تنظیمی فیصلے کے تحت آپ کو قلات کے محاذ پر بھیج دیا گیا، جہاں آپ نے قومی فرائض بہادری کے ساتھ سرانجام دئیے۔ 13 اگست کی صبح قابض فوج کے جیٹ طیاروں کے حملے میں آپ اپنے دیگر تینوں سنگتوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر کے امر ہو گئے۔
شہید شیر جان عرف جمال ولد شکور، سکنہ گومازی نے اپنے انقلابی سفر کا آغاز بی ایل ایف کے شہری انٹیلی جنس نیٹ ورک سے کیا۔ دو سال تک انہوں نے انتہائی رازداری اور مہارت سے فرائض سرانجام دیے، اور اگست 2025 کو پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ انہوں نے زامران، بلیدہ اور کیچ کے کٹھن جنگی محاذوں پر فرائض انجام دیئے۔ 25 اگست 2026 کو جب وہ ایک عسکری مشن پر گامزن تھے، تو تنظیم کے سابق رکن اور بعد میں غدار بننے والے حاجی گل عرف حاجی فراز نے بزدلانہ و منافقانہ وار کرتے ہوئے پیٹھ پیچھے سے گولیاں چلا کر انہیں شہید کر دیا۔ تنظیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مجرم حاجی فراز کو حراست میں لیا، جس نے دورانِ تحقیقات جرم کا اعتراف کرنے کے بعد سزا کے خوف سے خودکشی کر لی۔
شہید سمیر احمد عرف زیمل ولد عبدالقادر، سکنہ کھڈ کوچہ ضلع مستونگ نے 17 جون 2025 کو بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ آپ نے تین سال تک پاکستان فوج کے زیلی ادارے فرنٹیر کور کے مختلف رینکس پر ڈیوٹی دیتے ہوئے بی ایل ایف کی انٹیلی جنس کے لیے کام کیا اور دشمن کی معلومات تنظیم تک پہنچاتے رہے۔ دشمن کے نظر میں آنے کے بعد تنظیمی ہدایت پر آپ کو پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا۔ آپ نے شور پارود اور پھر مستونگ کھڈ کوچہ کے محاذ پر گشتی کمانڈ کی ذمہ داری سنبھالی۔ 03 ستمبر 2026 کو مستونگ شہر میں گشت کے دوران دشمن کے ساتھ جھڑپ میں تین ساتھیوں کی شہادت کے بعد، شدید زخمی حالت میں بھی آپ نے دشمن پر حملہ جاری رکھا اور گولیاں ختم ہونے پر آخری گولی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
شہید عزیر احمد عرف جاناں ولد محمد اعظم، سکنہ کوئٹہ نے 2026 کے آغاز میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری تربیت کے بعد آپ نے ناگاہو کے محاذ پر اپنے فرائض نڈر انداز میں نبھائے۔ 03 ستمبر 2026 کو تنظیمی فیصلے کے تحت مستونگ محاذ پر گشت کے دوران دشمن کے ساتھ جھڑپ میں آپ نے دشمن فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔
شہید سکندر ولد رحیم داد، سکنہ دشت پنگو نے 25 جون 2025 کو بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ آپ نے اپنا زیادہ تر وقت ناگاہو کے محاذ پر گزارا۔ آپ تنظیمی فیصلے کے تحت مستونگ محاذ پر منتقل ہونے کے بعد 03 ستمبر 2026 کو گشت کے دوران دشمن کے ساتھ جھڑپ میں فوج کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید محمد یونس عرف سلال ولد حاجی عبدالقادر، سکنہ کلی شاہنواز کوئٹہ نے 2026 کو بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ ناگاہو محاذ پر متعدد معرکوں میں دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کے بعد آپ مستونگ محاذ پر گشتی ٹیم کا حصہ بنے۔ آپ نے 03 ستمبر 2026 کو مستونگ میں گشت کے دوران قابض دشمن کے حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کے متعدد اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔
شہید بابر عرف کمبر ولد بشیر احمد، سکنہ پروم نے 5 اکتوبر 2023 کو بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث آپ گشتی نیٹ ورک کے سیکنڈ کمانڈ بنے۔ آپ نے پروم، گورکوپ، کوسٹل ہائی وے، بالگتر، زامران، ماشکیل، پنجگور اور گوارگو کے محاذوں پر فرائض نبھائے، جبکہ بلوچ راجی آجوئی سنگر کے کیمپ کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ 14 ستمبر 2026 کو پروم کے علاقے مچانی کور میں دشمن کے ساتھ معرکے میں شہید بابر نے دشمن فوج کا مقابلہ کرکے سنگتوں کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
شہید تیمور شاہ عرف شاہین ولد گل محمد، سکنہ چاغی نے اس سال کے آغاز میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری تربیت کے بعد چاغی کے دشوار گزار محاذوں پر گوریلا جنگ کے امور سرانجام دیے۔ 18 ستمبر کو امین آباد چاغی میں دشمن کی گھیرابندی کے خلاف معرکے میں وہ بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید جمعہ عرف کمانڈو ولد سید، سکنہ چاغی نے 2026 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ پہاڑی محاذ پر غیر معمولی عزم کے ساتھ فرائض نبھانے والے شہید جمعہ نے 18 ستمبر کے معرکے میں صفِ اول میں رہتے ہوئے دشمن پر شدید جوابی حملہ کیا اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
شہید ریاض عرف صابر ولد غلام نبی، سکنہ منگچر قلات نے 2026 کو بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ چاغی کے کٹھن محاذوں پر قومی فرائض نبھانے کے بعد، 18 ستمبر کو امین آباد میں دشمن کی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے وہ اپنے دیگر سنگتوں کے ہمراہ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔
شہید ضیاء الحق عرف ضیاء اللہ ولد محمد تاوان، سکنہ چاغی نے 2026 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ چاغی میں گوریلا جنگ کے دوران قومی خدمات سرانجام دینے والے شہید ضیاء اللہ نے 18 ستمبر کو امین آباد کے معرکے میں دشمن کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے وطن پر جان قربان کر دی۔
ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے ان تمام شہداء کو گراں قدر الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور یہ عزم دہراتی ہے کہ بی ایل ایف شہیدوں کے مشن کو ان کی منزلِ مقصود آزاد بلوچستان تک پہنچائے گی۔


