دوشنبه, مارچ 9, 2026
Homeخبریںبلوچ ایک الگ قوم ہے،پاکستان وایرانی اقوام کا حصہ نہیں،FBMجرمنی کے آرگنائزرالہی...

بلوچ ایک الگ قوم ہے،پاکستان وایرانی اقوام کا حصہ نہیں،FBMجرمنی کے آرگنائزرالہی بخش بلوچ

جرمنی (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ جرمنی چیپٹر کے آرگنائزر الٰہی بخش بلوچ نے ‘بلوچ ورنا نیوز’ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اپنی چھینی گئی آزاد و خود مختار حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں، اس وقت ہماری سرزمین دو حصوں میں تقسیم ہیں جن میں سے ایک حصے پر پاکستان اور دوسرے پر ایران قابض ہے۔ ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہم جرمن عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوسکیں کہ بلوچ ایک الگ قوم ہے وہ پاکستانی و ایرانی اقوام کا حصہ نہیں۔ ہم ہر طرح سے الگ ہیں۔ ہماری زبان، ثقافت، کھانا، موسیقی اور دیگر رسم و رواج مختلف ہیں۔ ہمارے اور پنجابی و فارسی کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں”۔
الٰہی بخش بلوچ نے مزید بتایا کہ “اس وقت یہ دستخطی مہم بعنوان”بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران” 3 ماہ سے زائد عرصے سے جرمنی کے تقریباً زیادہ تر بڑے شہروں میں منعقد ہوگیا ہے۔ ہمارا مقصد جرمن عوام کو اپنی تحریک آزادی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنا ہے، ہمیں اپنے وطن بلوچستان جس پر فوجی قوت و طاقت کے ذریعے قبضہ کیا گیا ہے اور اسی طاقت کے زور پر اس قبضے کو برقرار رکھنے کی ظالمانہ کوشش کی جارہی ہے کے بارے میں جرمنی اور دنیا کو معلومات فراہم کرنی ہیں۔ اس لئے یہ تمام مہذب اور آزادی پسند اقوام کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ہماری طرف مدد کے ہاتھ بڑھائیں تاکہ ہم اپنی کھوئی ہوئی آزاد و خودمختار حیثیت کو دوبارہ حاصل کرسکیں”
مہم “بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران”کا انعقاد کرنے والے کارکنان اپنی سرگرمیوں کی تشہیر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیسبک پر اپنے پارٹی پیج اور دیگر آن لائن بلوچ خبر رساں ویب سائٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک جاری بیان میں انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ انگریز سامراج نے بلوچستان کو دو مصنوعی لکیروں “ڈیورنڈ” اور “گولڈ سمتھ” کے ذریعے تقسیم کیا اور پھر ایران و پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ بلوچستان کی آزاد و خودمختار سرزمین پر قبضہ کرلیں جو قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔
تین مئی دوہزار انیس بروز جمعہ فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں نے بیک وقت دو مقامات پر آگاہی مہم کا انعقاد کیا۔ جرمن دارالحکومت برلن میں امریکی و فرانسیسی سفارت خانوں کے سامنے برلن گیٹ کے مقام پر مہم کا انعقاد ہوا جبکہ دوسری جانب جرمن صوبے نارتھ ویسٹ فالیا کے شہر وُوپرتال میں بھی اسی روز مہم منعقد ہوئی۔ مہم کا انعقاد کرنے والوں کے مطابق جرمن عوام کے علاوہ دیگر اقوام نے بھی بڑی تعداد میں حصہ لے کر “بلوچستان نہ پاکستان اور نہ ہی ایران” کے موقف کی حمایت کررہے ہیں ۔مہم کا انعقاد کرنے والوں نے ان الفاظ میں اپنے سابقہ حکمران برطانوی راج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “ یہ امر برطانوی تاریخ و ارتقاء پر ہمیشہ ایک قرض رہے گا، اب یہ برطانیہ کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اپنی تاریخی غلطی کی تصحیح کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی مدد کرے تاکہ برطانیہ کی آزادی و جمہوریت پسند عوام کے لئے ان کی تاریخی غلطی باعث شرمندگی نہ بنے”۔
فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیربیار مری نے حال ہی میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے درخواست کی کہ “پاکستان اور ایران کو بلوچستان میں بلوچ نسلی کُشی اور دنیا میں دہشت گردی پھیلانے اور اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کی پاداش میں بلیک لیسٹ کیا جانا چاہئے تاکہ ان ممالک کو اپنے جرائم کی وجہ سے ایک سخت اور واضح پیغام جاری ہوسکے”۔
بلوچ ایک سیکیولر قوم ہے جو اپنی بنیادی حق آزادی اور قومی وقار کی جدوجہد میں مصروف ہے، ان کا خیال ہے کہ ان کے اپنے آزاد ملک بلوچستان کے بغیر ان کو دبایا جائیگا اور دو انتہا پسند ممالک پاکستان و ایران اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کے لئے ان کے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے۔
فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ آگاہی مہم حقیقی طور سے بلوچ قوم کی امنگوں اور موقف کی نمائیندگی کرتی ہے جس کو پاکستان اور ایران کے ذرائع ابلاغ ہمیشہ غلط اور منفی انداز میں توڈ مروڈ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ تمام جلا وطن بلوچ آزادی پسند کارکنان کی اخلاقی اور قومی ذمہداری بنتی ہے کہ وہ فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ دستخطی مہم کی تشہیر کریں تاکہ دنیا کو بلوچستان پر غیر قانونی قبضے اور بلوچ قوم کی جدوجہد آزادی کے متعلق مطلع کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز