کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیاں میں کہاہے کہ شہداء کی جدوجہد اور قربانیوں نے آزادی کی جدوجہد کو انٹر نیشنلائز کیاہے آج پوری دنیا میں بلوچ کمیونٹی میں شہداء کی مشن اور ایجنڈے کو فالو کرتے ہوئے بلوچ قومی جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں شہداء نے جو قربانیاں دین جو تکالیف سہے اور جن مصیبتوں کا سامنا کیاان کا ایک مقصد تھاآزادو بہتر و خوشحال بلوچستان شہداء نے پارلیمنٹ اور دیگر محدود اختیارات کی روایتی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نزرانہ پیش کرنے سے گریز نہیں کیا لیکن آج کچھ پارلمنٹریں ان کے سوچ اور فکر کے برخلاف ان کی جدوجہد کو چند اختیارات کا حصول قرار دیکر بلوچ عوام کو گمراہ کررہے ہیں ترجمان نے کہاکہ شہید مجید جان لانگو سینیئر شہید لونگ خان مینگل شہید ڈاکٹر خالد بلوچ شہید دلوش بلوچ اور دیگر بلوچ شہداء کو ان کے غیر معمولی قربانیوں کے حوالہ سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی قربانیاں رائیگان نہیں جائیں گے ان کی کوششیں بانجھ نہیں ان کی قربانیوں کا ثمر آج بلوچ قوم کو جہد آزادی کی بے پناہ سیاسی اور سفارتی حمایت کی صورت میں مل رہاہے بلوچ قوم کا مستقبل تابناک ہے بلوچ عوام مایوس نہ ہو بلوچ عوام پارلمنٹرین کے گمراہ کن پروپیگنڈوں اور ڈس انفارمیشن میں نہ آئیں بلوچ جدوجہد کسی کی پراکسی اور پپٹ نہیں یہ شہداء کی تحریک ہے بعض پارلیمانی پارٹیاں شہدائے آجوئی کے برسیاں مناکر خود کو شہداء کا ہمدر د ظاہر کرکے ان کی قربانیوں کو کیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بلوچ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی سعی لاحاصل کوشش کررہے ہیں ان کی برسیان مناکر یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ شہداء کے ساتھ ہیں لیکن وہ عملی طور پر شہداء کے ہمراہ نہیں ہیں ان کا سوچ آئین و منشور شہداء کے اصولی جدوجہد کے قطعی خلاف ہے وہ محض چند اختیارات کی بات کرکے بلوچ وطن کی آجوئی کے مخالف ہیں ترجمان نے کاکہ شہداء کو محض علامتی اور روایتی طور پر یاد کرنے سے ان کی روح کو تسکین نہیں پہنچتی ان کی جدوجہد کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اصل مقصد شہداء کے قومی موقف کا ساتھ دینا ہے ان کی جدوجہد کا حاصل وصول آزادی کے مطالبہ کو ہونا چاہیے نہ کہ پارلمنٹ کا بناؤ سینگھارترجمان نے کہاکہ بلوچ مسئلہ بہتر انداز میں دنیا کے سامنے آچکاہے عالمی برادری اس سے آگاہ ہیں کہ بلوچ کیا چاہتاہے لیکن چند خیمہ بردار بلوچ قومی مسئلہ کو ریاستی مراعات سے منسوب کرکے بلوچ جدوجہد کے تاریخی اور زمینی موقف کو مسخ کرنے کی جو کوشش کررہیں وہ اس میں ناکام ہوچکے ہیں انہیں زہنی سیاسی اور نفسیاتی شکست کا سامناہے وہ بلوچ عوام کو بے حوصلہ کرنے کی لاکھ کوششوں کے بعد آج شکست خوردہ بن چکے ہیں ترجمان نے کہاکہ تحریک آزادی شہداء کی میراث ہے دنیا کو کوئی بھی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کے منطقی ہدف کے حصول میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے