ہمگام اداریہ : انڈیا میں برطانوی سامراج کےآخری وائسرائے کا منصوبہ یہی تھا،کہ جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے جنوبی ایشیا کے خطے میں ایک متحدہ ہندوستان کو مزہب کے نام پر تقسیم کرکے ایک ایسا بدمعاش فوجی ریاست پاکستان کی شکل میں بنایا جائےتاکہ اسے اپنی مفادات کی چوکیداری کیلئے سوویت یونین کیخلاف بطور مورچہ ہر وقت استعمال کیا جاسکے۔
اور انھوں نے پاکستان کو اس مقصد کیلئے دوبار ہر حوالے سے خصوصا عسکری مقاصد کیلئے عملا استعمال میں لاچکے ہیں۔اول سابقہ سویت یونین وامریکہ کی سرد جنگ،دوئم 9/11کے بعد امریکہ اور نیٹو کی دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ ۔
اسی تاریخی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ہر سال کی طرح اس سال بھی قابض پاکستان حقیقی قومیں جن میں سندھی ،پشتون اور بلوچ کی سرزمین پر ریاستی طاقت فوجی بندوق کے بل بوتے پر ہر جگہ عموما خصوصی طور پر بلوچستان میں نوری نصیر خان و خان محراب خان کی سرزمین پر 14اگست کو بطور یوم آزادی منانا بلوچ قوم کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ اسی دن پاکستان بلوچ نوجوانوں کے زہنوں کو فکری حوالے سے پراگندہ و گمراہ کرنے کیلئے سکولوں،دفاتر ، عوامی مقامات،پبلک پارک،میڈیا اور بازاروں میں اپنے چند زرخرید مخصوص مقامی وطن فروش لوگوں کو ساتھ ملا کر مختلف پروگرامز کا انعقاد کرواتا ہیں۔
ایک اور حقیقت جسے خود پاکستانی دانشور جن میں ڈاکٹر صفدر محمود مانتے ہے کہ پاکستان کا پہلا ،پہلا نام نہاد یوم آزادی 15اگست کو منانا مجبوری اور ایک غلطی تھی اسی لیئے بعد میں اسے بعض تاریخی تلخ حقائق کی بوجوہ 14اگست کے دن عوام سے اصل حقائق کو چھپا کریہ جواز بنا کر پیش کیا گیا کہ 15اگست دراصل نجومیوں کے مطابق ایک منحوس دن ہے۔
اب ایک ایسا دن جسے اس کے اصلی ماننے والوں کے سامنے وہ دن خود ہی متنازعہ اورزیر بحث ہو ،پھر اسے مقبوضہ قوم کی طرف سے اپنی تاریخی یوم آزادی11اگست کو چھوڑ کر دشمن کے دن کو یوم قومی آزادی کے بطور منانا یا اس میں شامل ہونا نادانی میں اپنے قومی آزادی سے انکار کے مترادف معنی میں سمجھا جاتا ہے۔
بلوچ دشمن ریاست پاکستان دن رات ہر محاز پر اپنے خونی پنجوں کو مضبوط کرنے کیلئے مصروف عمل ہے۔ دشمن کے 14 اگست اور بلوچ قومی آزادی کے دن 11 اگست بارے فکری و شعوری حوالے سے بلوچ قوم میں علم و آگاہی پھیلانے اور 14 اگست حوالے دشمن کے پروپیگنڈا مشینری کو سبوتاژ کرنے کیلئے بحیثیت قوم بلوچ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو کثیرالجہتی سطح پر منظم انداز سے کام کرنا چائیے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ بلوچ آزادی پسند طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد نے تنظیمی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ اگست بلوچ قومی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے کیونکہ اس دن بلوچ قوم نے قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے ہوئے برطانوی سامراج سے اپنی آزادی حاصل کی۔
یوم گیارہ اگست، اٹھارہ سو انتالیس سے لیکر انیس سو سینتالیس کی جدوجہد قربانیوں اور وطن سے محبت کرنے اور طویل جدوجہد کی یادگار دن ہے۔
اسی موضوع بارے بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری دلمراد بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم میڈیا سے محروم ہیں پاکستانی میڈیا یک طرفہ پاکستانی فوجی موقف کی تشہیر اور بلوچ قوم کے خلاف دنیا بھر میں ہر سطح پر دن رات پروپیگنڈہ کے لئے معمورہے لیکن سوشل میڈیا ہمیں موقع فراہم کرتاہے کہ ہم اپنی آواز موثر اور منظم انداز میں دنیا تک پہنچائیں۔ پارٹی کارکن اس میدان میں اپنی صلاحیتیں اور ہنر ہر ممکن صورت میں بلوچ قومی آواز دنیا تک پہنچانے کے لئے روبہ استعمال میں لائیں۔
اس کے علاوہ متحدہ آزاد بلوچستان کیلئے جدوجہد کرنے والی پارٹی فری بلوچ موومنٹ کے لندن چیپٹر نے 11اگست بلوچستان کی یوم آزادی بارے بیان جاری کرتے ہوئے کہا 11 اگست یوم آزادی بلوچستان کے مناسبت سے لندن میں ایک سیمنار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس میں برطانیہ میں مقیم تمام بلوچوں، دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں ، انسانی حقوق کے علمبرداروں، سیاسی جماعتوں اور دیگر بلوچ و بلوچستان کے خیرخواہ شرکت کریں گے۔
سیمنار کا مقصد دُنیا کو 11 اگست کے دن بلوچستان کی اعلانِ آزادی اور اس کے بعد بلوچستان کی جبری الحاق کے حوالے سے دُنیا کو آگاہی دینا ہے۔ ماہ ِ اگست جہاں بلوچ قوم کی تاریخ میں خاصی اہمیت کا حامل ہے وہیں اس مہینے میں غیر فطری، غیر تاریخی اور دہشتگرد ریاست پاکستان کے مقبوضہ بلوچستان میں نام نہاد آزادی منانے کے ڈرامے بھی پوری ریاستی طاقت اور سرپرستی میں شروع ہو جاتے ہیں ِ
آزادی کو اگر صحیع معنوں میں سمجھا اور دیکھا جائے تو ہندوستان نے آزادی حاصل کی تھی انگریزوں کی حاکمیت اور غلامی سے اپنی جانوں کو قربان کر کے اور تحریکِ آزادی کو روا رکھ کے نہ کہ پاکستان جو کہ انگریز لکھنو کے نوابوں اور جناح کو تالی میں دے کے گئے تھے ِ
پاکستان…… پاک سرزمین اب یہ کسی کو آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان میں زمین کا کونسا حصہ اور ٹکڑا پاک و صاف ہے یا وہاں پاک و صاف لوگ رہتے ہو؟
ایک ایسا ملک اور ایک ریاست جسکی نہ زمین اپنی ہے، نہ کوئی حقیقی تاریخ، نہ کوئی قومی وجود، نہ اسکی کوئی ثقافت اور نہ اسکی کوئی اپنی زبان یا قومی ہیرو ِ سب اِدھر اُدھر سے بھیک مانگ کر، جبری قبضہ کر کے یا من گھڑت مطالعہ پاکستان میں جھوٹ چھاپ کر حاصل کی گئی ہیں ِ اور اب یہی غیر فطری ریاست مقبوضہ بلوچستان میں اپنا وجود اور ساکھ منوانے کے لیے مختلف ڈرامے اسٹیج پہ سجایا جا رہا ہے ِ
جبکہ دوسری طرف بلوچستان…… بلوچوں کی سر زمین، جس کی ایک تاریخی مقام، ایک تاریخ، ایک قومی وجود، اپنی ثقافت، اپنی زبان اور اپنا ایک پہچان رکھتی ہے، وہاں پہ یہ غیر فطری اور دہشتگرد ریاست سادہ لوح بلوچوں کو ڈرا دھمکا کے، ورغلا کے یا اپنے سارے پرانے دوسرے حربے استعمال کر کے بلوچ شہیدوں کے وارثین کے زخموں پر نمک پاشی کرکے نامنہاد جشنِ آزادی کی تقاریب منعقد کرواتا ہے ِ
اب جو غدار ہیں اور شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کر کے اپنی ماں جیسی سرزمین اور ہزاروں شہداء کے خون کی سودے بازی کر کے اس غیر فطری ریاست کے تقاریب میں پیش پیش رہتے ہیں ان سے کوئی کیا گلہ اور کس خیر کی توقع کیوں رکھے ؟ تاریخ انکی حیثیت فیصلہ وقت خود طے کرے گی مگر جو سادہ لوح، بے شعور اور خوفزدہ بلوچ کسی نہ کسی طرح سے ریاستی بہکاوے میں آ کے اِن تقاریب میں شرکت کرتے ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں اُن غداروں کا ساتھ دے کے اس غیر فطری ریاست کے جشنِ آزادی کے دھوکہ دہی ڈرامے کو اسٹیج پر ادا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جو کہ اپنی سرزمین اور اپنے شہیدوں کے خون کے ساتھ دھوکہ شمار ہو گا ِ
اگر آپ قابض دشمن کے خلاف لڑ نہیں سکتے، بول نہیں سکتے یا لکھ نہیں سکتے تو کم از کم اُنکا ساتھ دے کر ، اُنکے جھنڈے کو اُٹھانا یا اُنکے تقاریب میں شامل ہونے سے تو خود کو دُور رکھ سکتے ہیں یقین جانیں اس میں کوئی پہاڑ تھوڑنے جیسی طاقت اور محنت درکار نہیں ہوتی بس زرا سا اپنی قومی ضمیر، اپنی غیرت، اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے قومی پہچان کو زندہ اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میں کون ہوں اور میری پہچان کیا ہے؟
لہزا تمام غیرت مند، با ضمیر اور با شعور بلوچ قوم سے یہ درخواست ھے(خاص کر اسکولوں کے اساتذہ، طلباء اور اُنکے والدین سے) جو شاید دہشتگرد اور ظالم فوج کے خوف سے یہ تقاریب منعقد یا ان میں شرکت کرتے ہیں ان سے دُور رہ کے ایک با ضمیر اور با شعور بلوچ ہونے کا ثبوت دیں کیونکہ یہ وہی ناپاک اور ظالم فوج ہے جس نے ہزاروں بے گناہ بلوچوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے، ہزاروں گھروں کے چادر و چاردیواری اور عزت کو ٹھیس پہنچایا ہے، بلوچ شہداء ہمارے اور آپکے ہی بھائی اور فرزند تھے، وہ گھر اور اُن گھروں کی خواتین ہمارے اور آپکے ہی ماں، بہن اور بیٹیاں ہیں ِ
اگر 11 اگست کو ہمیں اور آپ کو اپنی سرزمین کی آزادی کا جشن منانے میں خوف آتا ہے تو 14 اگست کو نامنہاد جشنِ آزادی منا کے ہمیں شرم بھی آنی چاہیے ۔
بلوچ سرزمین پر قابض ریاست کی طرف سے منعقد کیئے گئے تمام پروگرامز جس حد تک ممکن ہو،ان کو کاونٹر کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر شعوری آگاہی پھیلا کر ان کو سبوتاژ کیا جانا چائیے۔کیونکہ دشمن کی اس جیسے حربوں سے بلوچ وطن اور بیرونی دنیا میں ایک غلط میسج جائیگا۔