زاھدان(ہمگام ویب نیوز) میڈیا اطلاع کے آمدہ رپورٹوں کے مطابق قابض ایرانی گجر فورسز کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی “اطلاعات” نے کل مقبوضہ بلوچستان سے انسانی حقوق کے علم بردار بلوچ نوجوان عبداللہ بزرگزادہ کو زبردستی گرفتار کرکے غائب کردیا ہے. اطلاعات کے مطابق عبداللہ بزرگزادہ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس ایرانی ایجنسی کے اہل کارونوں نے اس وقت گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے جب ایرانشھر میں بلوچ عورتوں کو جنسی تشدد کا شکار بنانے والے درندوں کے خلاف عوام گورنر ہاؤس کے سامنےمظاہرے کر رہے تھے !
آج عبدللہ بزرگزادہ کا معصوم بیٹا پلے کارڈبھی اٹھائے اپنے ابو کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے.
ابھی بی بی سی فارسی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جن درندوں نے بلوچ عورتوں کے ساتھ جنسی تجاوز کیا ان کا تعلق ایرانی قابض فورسز کے اداروں سے ہے.
عوامی مظاہرے کو ختم کرنے اور لوگوں کو خاموش کرنے کیلئے پاسداران انقلاب کے کرنل نے دروغ گوئی کرتے ہوئے کہا کہ بلا واسطہ ایرانشھر کے پیش امام محمد طیب کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا کہ “جس نے یہ کہا ہے کہ 41 بلوچ عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کیا ہے وہ غلط ہے وہ “گوہ خوردہ ” ہے !


