چهارشنبه, مارچ 18, 2026
Homeخبریںبلوچ لڑکیوں کو جنسی غلام بنانے کی ٹھوس ثبوت سامنے آ رہے...

بلوچ لڑکیوں کو جنسی غلام بنانے کی ٹھوس ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔وی بی ایم پی

کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4733 دن ہوگئے ۔

آج کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے چیئرمین جہانگیر بلوچ، انفارمیشن سیکرٹری بالاچ قادر اور انکے دیگر مرکزی کابینہ اور شال زون کے اراکین نے شرکت کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ تاریخ سب کے کردار واضح اور شگاف لفظوں میں درج کرتی ہے، جن لوگوں نے بلوچ قوم اور مادر وطن کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ وہ بلوچ قومی تاریخ کے پیشانی میں جھومر بن کے سجے ہوئے ہیں اور جن کرداروں نے وطن کا سودا کیا اور اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ان کے نام ونشان مٹ گئے ہیں ان کو تاریخ کبھی اچھے لفظوں میں یاد نہیں کرے گی۔ بلوچ کا قلم تاریخ کو لکھنے میں کبھی نا انصافی نہیں کرتا ہے –

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل قوم کے مستقبل ہیں، اپنے صلاحیتوں کو باہمی اختلافات کی زد نا کریں، ماضی سے ہمیں سبق سیکھنا ہوگا کہ کس طرح ریاست کے چالوں میں آکر ہمارے کیڈرز ضائع ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ آج بلوچ قوم اور اس قومی تحریک کو نوجوانوں کے ساتھ دینے کی اشد ضرورت ہے، یہ بوڑھی مائیں اور بہنیں جو سڑکوں پہ بیٹھے ہیں، ان کے امیدیں ریاست سے زیادہ اپنے نوجوانوں پہ لگے ہوئے ہیں، عصر حاضر کے بلوچ نوجوانوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس سرزمین کے والی اور اس تحریک کے وارث ہوں گے –

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ایک پر امن جدوجہد اور ہم ہمیشہ سے عالمی اداروں سے یہ اپیل کرتے آ رہے ہیں کہ بلوچ کو سنا جائے ان کے درد کا مداوا نکالا جائے۔

انھوں نےکہاکہ یہ ظالم ریاست اپنے بربریت کو بلوچستان میں مزید بڑھا رہی ہے، اب تو بلوچستان کے دور دراز مختلف علاقوں سے فورسز کے ہاتھوں بلوچ لڑکیوں کو جنسی غلام بنانے کی ٹھوس ثبوت سامنے آرہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں

فیچرز