کابل ( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوزڈیسک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک شادی ہال میں بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک خود کش بمبار نے شادی کی تقریب میں خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ مقامی اطلاع کے مطابق انھوں نے ہر طرف لاشیں ہی لاشیں دیکھی ہیں۔
دھماکہ اقلیتی شیعہ کمیونٹی کے اکثریتی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر چالیس منٹ پر ہوا۔
کابل کے مغربی علاقے میں پیش آنے والے اس دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی بھی گروپ نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں اس قسم کے حملوں کی بعض اوقات داعش نے قبول کی ہے ۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی رات ہونے والے دھماکے میں ہلاکتیں ہوئیں ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ جبکہ خبررساں ادارے روئٹرز کے ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں کم از کم 20 افراد شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔
جب دھماکہ ہوا اس کے 20 منٹ بعد ’ہر کوئی چیختا چلاتا اور روتا ہوا باہر کی طرف بھاگا۔‘
واضع رہے افغان شادیوں میں اکثر سینکڑوں مہمان شریک ہوتے ہیں جو کہ بڑے ہالز میں جمع ہوتے ہیں اور عام طور پر مرد، خواتین اور بچوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔
‘تقریباً 20 منٹ تک ہال دھویں سے بھرا رہا۔ مردوں والے حصے میں تقریباً ہر کوئی یا تو مر چکا تھا یا زخمی تھا۔ دھماکے کے دو گھنٹے بعد بھی وہ ابھی تک لاشوں کو ہال سے باہر لا رہے ہیں۔’
واضح رہے کہ افغانستان میں حالات بہت زیادہ کشیدہ رہے ہیں حالانکہ طالبان اور امریکہ، جس کے ہزاروں فوجی افغانستان میں موجود ہیں، مبینہ طور پر امن معاہدے کے اعلان کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
طالبان اور امریکی نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات کر رہے ہیں اور فریقوں نے پیشرفت کی اطلاع بھی دی ہے۔اس معاہدے میں طالبان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ افغانستان کو امریکی اہداف پر حملے کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنے دینگے، سمیت افغانستان سے مرحلہ وار امریکی فوجی دستوں کی واپسی شامل ہے۔


