شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںتربت، بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کی جناب سے علامتی بھوک ہڑتال جاری

تربت، بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کی جناب سے علامتی بھوک ہڑتال جاری

 تربت (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ ہنکین کی جانب سے نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور جعلی پولیس مقابلوں میں بلوچ نوجوانوں کی ہلاکتوں کے خلاف تربت پریس کلب کے سامنے قائم تین روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے دن میں داخل ہو چکا ہے۔ اس احتجاج میں مختلف سیاسی، سماجی، قانونی و انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔

کیمپ کا مقصد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبو بلوچ، گلزادی، کامریڈ بیبگر، ماما غفار اور چیرمین عمران بلوچ سمیت دیگر کارکنان کی غیر قانونی گرفتاری، ماورائے عدالت حراست، اور ان پر تھری ایم پی او کے تحت مقدمات میں غیر معینہ مدت تک توسیع جیسے اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

بھوک ہڑتال کے دوسرے دن کیمپ میں کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید شاہ ایڈووکیٹ، معروف سیاسی شخصیت واجہ عصا ظفر، سماجی کارکن منظور احمد بلوچ، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، بی این پی کے رہنما حاجی عزیز بلوچ، چے ریاض احمد اور ایڈووکیٹ عبدالمجید دشتی سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی اور مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی بلاجواز گرفتاری اور عدالتی عمل سے قبل ہی انہیں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو یہ مذید بے چینی کا باعث بنے گا۔

بی وائی سی کیچ کے نمائندوں نے کہا کہ ہمارے قائدین کی گرفتاری نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ اسے ایک خوفناک پیغام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے کہ جو بھی آواز اٹھائے گا وہ خاموش کر دیا جائے گا۔ ہم یہ علامتی بھوک ہڑتال دنیا کو بتانے کے لیے کر رہے ہیں کہ ہم ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔

بی وائی سی کے مطابق گرفتار شدگان کو عدالت میں پیش کیے بغیر کئی ہفتوں سے غیبی حراست میں رکھا گیا ہے جو آئین پاکستان اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھوک ہڑتالی کیمپ نہ صرف بلوچ سیاسی تحریک کے خلاف ہونے والے ریاستی جبر کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے بلکہ یہ مظلوموں کی آواز بن کر دنیا کو متوجہ کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری، اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ ان گرفتاریوں کا نوٹس لیں اور فوری رہائی کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز